Qaidi Parinday

khawahishon ki ghulami main

adaton ki rawani main

adawaton ki farawani main

hum khud nahi rehtay

kuch ker nahi patay

badal jatay hain

ya asal rang dikhatay hain

kuch kerna chahtay hain

ker kuch jatay hain

wo hum nahi hotay

kuch qaidi parinday

apni hi soch main qaid

jo kabhi urna tou chahtay hain

urr nahi patay

 خواہشوں کی غلامی میں

عادتوں کی روانی میں

عداوتوں کی فراوانی میں

ہم خود نہیں رہتے

کچھ کر نہیں پاتے

 بدل جاتے ہیں

یا اصلی رنگ دکھاتے ہیں

کچھ کرنا چاہتے ہیں

کر کچھ جاتے ہیں

وہ ہم نہیں ہوتے

کچھ قیدی پرندے

اپنی ہی سوچ میں قید

جو کبھی اڑنا تو چاہتے ہیں

اڑ نہیں پاتے

Advertisements

5 خیالات “Qaidi Parinday” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s