رکشہ ڈائری

Rickshaw Diaries

جب میں نیا نیا کراچی آیا تو زیادہ تر بسوں میں سفر کیا، بسیں بھی وہ جو وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ صاحب نے اپنی جوانی میں فرعون سے ادھار مانگی تھیں، تا کہ کراچی کی عوام کو کچھ توسہولیات میسر ہوں- لیکن جب سے میرا موبائل فون بس میں سفر کے دوران غائب ہوا تب سے بسوں کی چھت پر بیٹھ کے کراچی کی سڑکیں کھنگالنے کو مس کر رہا ہوں اور یہ کام اب رکشوں میں کرتا ہوں-

میں جب بھی لوگوں کا ہجوم دیکھتا ہوں تو ان کی شکلوں پر غورکر کے سوچتا ہوں کہ ہر کوئی اک کہانی لے کر گھر سے نکلا ہے، ہر کسی کی زندگی میں کیا کچھ چل رہا ہے، ہر کسی کی اپنی ایک دنیا ہے جس میں وہ رہ رہا ہے، میں نہیں- اس لئے جب بھی مجھے موقع ملتا ہے میں لوگوں کو سنتا ہوں، ان کے دل کی بھڑاس، زندگی کے مسائل اور خوشی کے لمحات-

اکثر رکشوں کے سفر کے دوران رکشہ ڈرائیور حضرات خود سے اپنی کہانیاں سنا کر دل ہلکا کرتے رہتے ہیں، جن کو سننا بھی ایک دلچسپی کا کام ہے- آئیں آج میں کچھ رکشہ ڈرائیوروں کی باتیں آپ کو بھی سناتا چلوں-

ویلنٹائن کا دن

Rickshaw in Karachi

وہ ویلنٹائن کا دن تھا اور میں رکشہ میں کلفٹن میں کہیں جا رہا تھا کہ اچانک ڈرائیور نے ویلنٹائن ڈے پہ بات چھیڑ دی.

 سر یہ ویلنٹائن ڈے مسلمان اتنے جوش سے کیوں منا رہے ہیں؟ یہ تو ہمارا دن ہی نہیں- میری بیوی مجھ سے آج کہہ رہی تھی کہ” میرے لئے بھی پھول لے آنا، میں نے اسے بولا کہ قسم سے تم مجھ سے سارا سال پھول مانگو گی میں لا کر دونگا لیکن آج کے دن نہیں- "

ڈرائیور بول رہا تھا اور میں نے اپنی ہنسی روکی ہوئی تھی، لیکن اچانک اس نے بڑی اعلیٰ بات کر دی

"دو خواتین میرے رکشے میں بیٹھی اپنی شاپنگ کی باتیں کر رہی تھیں، انہوں نے ویلنٹائن کے دن بیوٹی پارلر سے ہزاروں کا میک اپ کروایا، اور تین چار سوٹ خریدے، لیکن اگر کسی سگنل میں کوئی غریب دس روپے بھی مانگے گا تو نہیں دیں گی”

میں اس کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا-

یہ پاکستان ہے بھائی جان

وہ نوجوان رکشہ ڈرائیور تھا اور خاموشی سے رکشہ چلا رہا تھا، آگے سگنل آیا اور اس نے رکشہ روکا اور سڑک کے بیچ میں اپنا گٹکے سے بھرا منہ باہر نکالا اور پورا منہ خالی کر دیا، چمکتی سڑک پر گٹکا تھوک کے بڑا مطمئن ہو کر دوبارہ رکشہ چلانے لگا، میں کچھ دیر تو بیٹھا سوچتا رہا پھر میں نے اسے بولا، "سنو، تمھیں ایک بات بتاؤں؟ اگر تم آج کہیں دوسرے ملک میں ہوتے اور بالکل ایسے ہی سڑک کے بیچ گٹکا پھینکتے تو کہیں تھانے میں بیٹھے سڑرہے ہوتے یا جرمانہ بھر رہے ہوتے-"

"وہ ہنسا اور بولا، "لیکن یہ تو پاکستان ہے بھائی جان، اپنا ملک ہے، یہاں سب چلتا ہے

میں چپ رہا کیونکہ وہ بھی ٹھیک ہی کہہ رہا تھا، اگر وہ سگنل توڑتا تو میں بھلا اس بات پہ اسے ٹوکتا؟

کوئی سننے والا نہیں

Rickshaw Diaries

یہ رکشے والا اپنے دو دن پرانی بات بتا رہا تھا، اور ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے ابھی رو دے گا، وہ ایک عام سے پاکستانی کی آوازتھی-

"میں دو دن پہلے اس جگہ پہ کھڑا تھا، سامنے سٹاپ پہ دو موٹر سائیکل والے آئے ، ایک آدمی سے اس کا موبائل مانگا، اس نے نہیں دیا، انہوں نے اسے گولی مار دی، اس کی لاش کافی دیر وہیں پڑی رہی، پھر ایمبو لینس اور پولیس آئی، پولیس نے کیا کرنا ہے؟ کچھ بھی نہیں، کوئی بھی نہیں پکڑے گا ان مارنے والوں کو، کوئی سننے والا نہیں ہے یہاں.”

Advertisements

2 خیالات “رکشہ ڈائری” پہ

  1. phanerozoic11

    میرے پیارے شہر کی پیاری باتیں…
    ایک الگ ہی دنیا بستی ہے ان رکشوں میں بهی ہر روز ایک نئ کہانی، کچه سواریاں تو اپنے نشانات دل پروئے تیر اور اشعار کی شکل میں بهی چهوڑ جاتے ہین اور یوں ایک عام آدمی کیاپنے تئیم اپنی داستان امر کر جاتا ہے :ڈ

    بہت خوب!!

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s