سوشل میڈیا اور میرے خود سے کچھ سوالات

آج میں نے خود سے کچھ سوالات کیے، جن کے جوابات سمجھ آنے میں شائد کچھ وقت لگ جائے۔ فی الحال مجھے میری زندگی کا صرف ایک مقصد نظر آتا ہے اور وہ ہے سوشل میڈیا۔ چاہے وہ سوشل میڈیا کا استعمال ہو یا اس سے متعلق میرا کام ہو۔ یہ میرا شوق تھا، جو پھر کام بن گیا اور اب یہ مقصد بنا نظر آتا ہے، جبکہ میرا مقصد کبھی بھی اس کو اپنا مقصد بنانا نہیں تھا۔

فیس بک پر پیجز چلانے سے لے ٹوئٹر پر ہزاروں فالورز اور ورلڈوائڈ ٹرینڈز چلانے تک، انسٹاگرام پر سینکڑوں فالورز سے لے کر ایک کامیاب بلاگ بنانے تک، میں نے سب کر کے دیکھ لیا، بہت پزیرائی کمائی،ٹی وی انٹرویوز تک دیے۔۔ لیکن اس کو مقصد نہیں بنانا تھا۔ اس کو شائد اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا تھا۔

سوشل میڈیا پر دوسروں کی طرح میں بھی اوروں کو نصیحتیں کرتا پھرتا ہوں، خود کی صحیح اور باقیوں کی باتیں غلط نظر آتی ہیں، بلا روک ٹوک کے سب کچھ بولنا چاہتا ہوں، بکواس کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ میرا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا وہاں۔ جہاں مجھے اتنی کھلی چھوٹ ملے گی وہاں میں کتنی دیر تک صحیح اور غلط کے بیچ میں گھومتا پھروں گا، پھر تو میرے اپنے صحیح اور اپنے غلط ہونگے۔

میرے خود سے کچھ سوالات:

کیا سارا دن سوشل میڈیا پر اس طرح گزار کر میں خود میں کچھ مثبت تبدیلی لا پاؤں گا؟

جب تک اپنی کسی ٹویٹ یا پوسٹ پر لوگ انٹریکٹ نہیں کرتے ہمیں بے چینی کیوں رہتی ہے؟ کیا یہ چیز ہمیں ذہنی دباؤ کی طرف لے کر جا رہی ہے؟

ہم سوشل میڈیا پر بنا کسی کو خاطر لائے "سب کچھ” کیوں لکھ دیتے ہیں؟ ہمیں یا ہم سے جڑے لوگوں کو یا دنیا کو اس سے کیا حاصل ہوتا ہے؟

اگر سوشل میڈیا ہمیں بولنے کی آزادی دیتا ہے تو ہم اس آزادی کو مادرپدر آزادی کیوں سمجھنے لگ جاتے ہیں؟

کیا سوشل میڈیا پر وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو حقیقی زندگی کے رشتوں کو کچھ زیادہ اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں؟

کیا سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال مجھے حقیقی زندگی میں ایک اچھا اور ذمہ دار انسان بنا سکتا ہے؟

کیا سوشل میڈیا پر مثبت باتوں سے زیادہ منفی باتیں کی جاتی ہیں؟

کیا سوشل میڈیا نے واقعی ہمیں کچھ دیا ہے یا ہم یہاں بھی استعمال ہی ہو رہے ہیں؟

ان باتوں کے جوابات اگر آپ کے پاس ہیں تو مجھے بھی بتاتے چلیں۔۔ شائد اس مرتبہ میں آپ کی مان لوں۔

Advertisements

3 خیالات “سوشل میڈیا اور میرے خود سے کچھ سوالات” پہ

  1. 1. Yes. The fact that i’m thinking these questions is a positive change in itself. If I am able to let my voice be heard, and not let the attention weaken my point of view and originality, I think it’s positive.

    2. The reason we tweet is to be heard. It’s human nature’s desire to be heard. So when no one interacts, it feels like no one heard our voice. And this feeling of being ignored makes us cranky.

    3. I think it is very important to let our hearts out. If people in the past had their journals and diaries, people in the now have social media for that. I think when we are writing in our diaries, a part of ourselves is writing to be read by someone else. Yet we don’t show it to the world. With social media, we kind of journal our way through. So social media helps us write our diary-ish thoughts and knowing people out there are reading them and letting us know how this is a process of them knowing us better. And when people close to us know us better, we feel good. And this is how relationships are built.

    4. Because we’re deluded by the fact that we are right, what we think is right, and what we say is right. And it is our right to be right. We forget it is also our right to be wrong, and we just ignore exercising this right.

    5. No. Not necessarily. It actually depends on the person’s interpretation of success, which everyone’s is different. Sometimes, social media brings us closer to the people we never knew could exist in our life. So it’s really all about how one takes it.

    6. Yes. I think if even one positive change is brought about in your life through one tweet you read, or one post you stumbled upon, then there is your answer. One good deed goes a long way in making things right.

    7. What kinds of social media people are you surrounding yourself with? Focus on your niche, then rule out the weeds, and cut them off. That’s what the block option is for.

    8. I think it gave our voice a place to be heard, and brought out a platform where our voices are not ignored. But your question needs more thought. And I think that only time will tell.

    Liked by 2 people

  2. Anonymous

    پہلا سوال ہی بہت ظالم ہے 🙂

    اور اس کا جواب ہر اک کا الگ الگ ہو گا’ آپ چند پہلو دیکھ لیں ‘ کیا ایمان کے درجے بڑھے ہیں؟ کیا غصہ پر قابو بڑھا ہے؟ کیا زبان پر قابو بڑھا ہے؟ کیا کوئی نئے تجربات ‘ واقعات ‘ احساسات دیکھنے سمجھنے کو ملے؟ کیا کچھ ایسا کیا ہے اس کے استعمال سے جس سے ملک و قوم کو اجتماعی ناگزیر فائدہ ہوا ہو کس بھی قسم کا (قوم کی تعداد فکس نہیں ‘ دس بارہ سے دس بارہ کروڑ تک )

    چوتھا بھی اعلی سوال ہے’ ہم انسانوں نے جب ہر قسم کا قانون بنایا ہے’ ہزار قسم کی رکاوٹیں’ چیکس رکھے ہیں سکول کالج یونیورسٹی گلی محلہ دفتر فیکٹری سڑک دکان عدالت تھانہ کچہری وغیرہ میں تو آخر زبان پر قلم پر ‘ کی بورڈ ‘ کی پیڈ رکاوٹ لگانے چیک رکھنے حدود کا خیال رکھنے کو زور زبردستی کیوں سمجھتے ہیں ‘ زبان کی بے لگامی آخر کیوں کچھ چاہتے ہیں ؟
    دراصل سکرین کے پیچھے بیٹھ کر ڈر ختم ہو جاتے ہیں ‘ مادی بھی غیبی بھی نہ الله کا ڈر نہ پولیس کا نہ عدالت کا نہ ماں باپ کا ‘ کون پکڑ سکتا ہیں سکرین کے پیچھے بیٹھے ہوؤں کو ؟

    سوشل میڈیا اصل میدان ہے ہی نہیں ‘ یہاں پر اک ٹیپیکل جملہ ذہن میں ہے ” ہم یہودی سازش میں بہت بری طرح سر تا پا جکڑے گئے ہیں ” اگر مطالعہ کیا ہو دا پروٹوکولز آف ایلڈرز آف ژیون کا ‘ یا پروٹوکولز آف لرنڈ ایلڈرز آف ژیون

    خیر اک بات کہوں ‘ آپ قابل ہو ‘ ایسا سوچتے ہو ‘ کچھ بڑا کر جاؤ ‘ بظاہر بڑا ہو بیشک ‘ اپنی متعلقہ فیلڈ میں کچھ ایسا جو عالمی سطح پر مان لیا جائے
    یا حدود قیود ( خاص کر اصناف ) کا خیال رکھتے ہوئے کوئی ایسی دیکھی ان دیکھی تحریک چلاؤ جو اجتماعی سطح پر کام آ سکے شہروں و دیہاتوں میں رہنے والوں کے لئے یکساں ‘ اور جو دیر پا چل سکے

    ہمیں ہمرکاب پائیں گے انشا الله

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s