بے چارہ دل

دماغ قابو میں نہیں، اور الزام بے چارے دل پہ لگتے رہتے ہیں۔ رنگ دماغ غائب کرتا ہے اور سیاہ دل ہوتا رہتا ہے۔ لڑتا دماغ ہے اور تکلیف میں دل رہتا ہے۔ دنیا دماغ میں رہتی ہےاور دل میں انسان خود رہتا ہے۔

خود سے لڑ کر خود سے جیتنے والے لوگ، وہ خودی کو بلند کرنے والے لوگ، جو خُدا سے بھی خُدا کے لیے ملتے ہیں، بڑے خوش نصیب ہیں۔

اور اک میں ہوں، جو ڈر کے بیٹھا ہوں کہ کہیں وہ سب پتہ نہ چل جائے جو پہلے سے پتہ ہے۔ خود سے لڑنا نہ پڑ جائے، زخمی ہونا نہ پڑ جائے۔

دل کی سن کر دل کی ماننی پڑ جائے تو بےچارہ دل پھر بے چارہ نہیں رہتا۔

Advertisements

ایک خیال “بے چارہ دل” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s