وادئ نیلم: جنت کا سفر – اڑنگ کیل

میں نہیں جانتا تھا کہ مئی کے مہینے میں سردی کیسی ہوتی ہے، پہاڑ کی اونچائی پر چڑھتے ہوئے پیاس کی شدت کو پاس چلتے چشمے سے کیسے بجھایا جاتا ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ دن میں تین چار بار بارش کا ہونا کیسا ہوتا ہے، دریا کی لہریں جب ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں تو شور کی آواز کتنی دور تک جاتی ہے، خود کو بادلوں کے درمیاں پا کر ان کو چھونا نہ چھونا اک سا کیسا ہوتا ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ پانی کتنے رنگوں کا ہوتا ہے، پہاڑ کیسے گود میں لیتے ہیں، خدا کیسے جواب دیتا ہے۔۔۔ میں نہیں جانتا تھا!

میں نے کبھی پاکستان سے باہر کا سفر نہیں کیا، کسی اور ملک کی سرزمین پر قدم نہیں رکھا، مجھے نہیں معلوم کہ دوسروں ملکوں کی سیر کرتے وقت آپ کے کیا احساسات ہوتے ہیں، آپ کیا سوچ رہے ہوتے ہیں لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ اپنے ملک کے شمالی علاقاجات میں گھومتے ہوئے آپ کے اندر کوئی انجانا ڈر نہیں ہوتا (جنوں، چڑیلوں اور بدروحوں کے ڈر کے علاوہ)، آپ خالی جیب، خالی ہاتھ بھی گھومیں تو کہیں نہ کہیں پہنچ ہی جائیں  گے۔ اگر آپ کو کہیں روکا بھی جائے گا تو اس میں بھی آپ کی ہی بھلائی ہوگی، آپ کی حفاظت ہی مقصد ہوگا۔اگر آپ ایڈونچر فلمیں دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور دیکھتے ہوئے خود کو بھی فلم کا حصہ سمجھتے ہیں تو یہ جگہیں آپ کو ایک فلمی کردار بننے کا پورا سامان مہیا کرتی ہیں اور آپ کے اندر بسنے والے ایڈونچر کے شوق کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔

Photo 06-06-2015 21 43 54

کیرن کے بعد ہماری اگلی منزل شاردہ تھی، جہاں کی بدھ مت یونیورسٹی کا چرچہ میں نے اپنے بہنوئی سمیت درجنوں مزید لوگوں سے سنا ہوا تھا، ہمارے ذہن میں کوئی جیتی جاگتی یونیورسٹی کا تصور تھا لیکن حقیقت کچھ اور ہی تھی۔

"گاڑی یہیں روک دو”، کچھ دیکھتے ہی فرحان کے منہ سے اچانک آواز آئی۔ تنگ پہاڑیوں کے بیچ دوڑتے دریائے نیلم کو اچانک خُدا نے لیٹنے اور آرام کرنے کے لیے ایک میدان سا دے دیا تھا۔ "یہ کونسی جگہ ہے؟” جواب "منڈکرو” تھا۔  تین چار خیموں اور بھاگتے ہوئے درجنوں گھوڑوں کے بیچ، نیلم کے کنارے بیس پچیس لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے، میرے ہاتھ میں کیمرہ دیکھ کر مزید جوش سے کھیلنے لگے۔ دور بیٹھی ایک لڑکی جو اپنی ماں کے ساتھ دریا کے پانی میں کپڑے دھو رہی تھی، مجھے تصویر بناتا دیکھ کر ماں کے کان میں کچھ بولی، شائد وہ سوچ رہی ہوگی کہ۔۔ "یہ شہر سے آئے اجنبی ہماری زندگی سے اتنا متاثر کیوں ہیں، یہاں شائد یہ دو دن بھی نہ رہ پائیں۔”

Photo 17-05-2015 16 18 13
دریائے نیلم کے کنارے کرکٹ – تصویر: احسن سعید

شرارتی لڑکوں میں کرکٹ کا جوش دیکھ کر میں بھی سوچ میں پڑ گیا، کرکٹ اُن چیزوں میں سے ہے جو بطور پاکستانی ہمیں کبھی بھی بُری نہیں لگتی، یہ ہمیں جوڑ کے رکھتی ہے۔ میدانوں، گلیوں، چھتوں، کناروں، سڑکوں اور چوباروں پر کھیلا جانے والا یہ کھیل صرف کھیلنے والوں ہی نہیں بلکہ دیکھنے والوں کو بھی اپنے جال میں جکڑے رکھتا ہے۔ میں نے کراچی میں بحیرہء عرب کے ساحل سے پنجاب کے کھیتوں اور میدانوں تک، دنیا کے نویں بلند ترین پہاڑ نانگا پربت کی گود، فیری میڈوز سےدنیا میں جنت کہلانے والی وادئ کشمیر میں دریائے نیلم کے کنارے تک، لوگوں اور بچوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھا ہے۔ اردو زبان کے بعد یہ ایسی دوسری چیز ہے جو ہمیں جوڑے ہوئے ہے، ہمیں گھُلنے ملنے کا موقع دیتی ہے۔

Photo 17-05-2015 16 21 50
کرکٹ کھیلنے کے بعد شرارتی لڑکوں کا گروہ – تصویر: احسن سعید

"یہ چور ہے، اِس سے دور رہیں”
بچوں کا ایک گروپ شاردہ اُترتے ہی ہمارے پیچھے تھا اور ایک نوجوان جو کہ نارمل دکھائی نہیں دیتا تھا اس کو چور ثابت کرنے میں مصروف تھا۔ ہمارے جیپ ڈرائیور نے باقی بچوں کو بھگایا اور ایک کو ہمارے ساتھ بھیج دیا، دراصل ہم کشمیر کی مشہور قدیم بدھ مت یونیورسٹی دیکھنے کی غرض سے شاردہ آئے تھے۔ جہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں انڈین فلموں میں دکھائے گئے اونچے مندروں کی طرح 63 سیڑھیاں چڑھنا پڑیں۔ تقریباً دو ہزار سال پرانی یونیورسٹی صرف ایک چبوترے پر مشتمل تھی جو بدھ مت کے علاوہ ہندوؤں کے مذہبی اداروں کے زیرِاستعمال بھی رہی۔ یہ سارا علاقہ اب پاکستان آرمی کے زیرِاثر ہے، اور ڈیوٹی پر موجود فوجی جوانوں کا تعلق ملک دیگر علاقوں سے تھا۔

Processed with VSCOcam with m3 preset
شاردہ، نیلم کی مشہور قدیم بدھ مت یونیورسٹی کے آثار – تصویر: احسن سعید

شاردہ میں ہمارا قیام زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے کا تھا، وہاں سے کیل پہنچتے پہنچتے سورج بھی بادلوں کے پیچھے چھپا غروب ہو چکا تھا۔ کیل پہنچ کر کشمیر پر بنے پی ٹی وی کے ڈرامے یاد آگئے جو بچپن میں دیکھا کرتے تھے، وہی ماحول، وہی لوگ اور ویسے ہی مناظر۔ میں تو جیسے اپنے بچپن کا خواب جی رہا تھا۔

12305667_993726834002372_1104979403_n

کیل میں ہم سرکاری گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے جو پرائیویٹ ہوٹلوں کی نسبت سستا بھی تھا اور بڑا بھی۔ پاکستان کا کوئی موبائل نیٹ ورک بھی وادی نیلم میں کہیں بھی کام نہیں کرتا تو ہم اپنے گھر والوں سے رابطے کے لیے زیادہ  تر ہوٹل کا لینڈ لائن فون ہی استعمال کرتے تھے۔ سرکاری گیسٹ ہاؤس کے عقب سے ہی اڑنگ کیل گاؤں جانے کا راستہ نکلتا ہے، جو پورے کشمیر کا سب سے خوبصورت اور مشہور سیاحتی مقام ہے۔ رستہ پیدل چلنے اور اک پہاڑ سے اتر کر دوسرے پہاڑ پر جانے پر مشتمل ہے، ہم جیسے شہروں میں آرام دہ زندگی بسر کرنے والوں کے لیے تو تھکن سے چور ہونا فرض ہے، مقامی لوگ کے لیے جو رستہ 45 منٹ کا ہے ہمارے لیے 2 گھنٹے سے کم نہیں۔

یہ بھی پڑھیے:  وادئ نیلم: جنت کا سفر – کیرن

کیل سے اڑنگ کیل جاتے ہوئے آپ پیدل دریائے نیلم کے پل سے گزرتے ہیں جس ایک جانب پولیس اور دوسری جانب پاک فوج کی چوکی ہے، دونوں چوکیوں پر شناختی کارڈ دیکھا جاتا ہے اور پل کی تصاویر اتارنے سے منع کیا جاتا ہے کیونکہ سیکورٹی اعتبار سے پلوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

12308869_993681150673607_686799421_n
کیل سے اڑنگ کیل جانے کا راستہ – تصویر: احسن سعید

کیل سے اڑنگ کیل گاؤں جاتے ہوئے ہماری حالت کیا تھی اس کا اندازہ آپ کو ذیل میں دی گئی ویڈیو سے بخوبی ہوجائے گا۔

اڑنگ کیل گاؤں پہنچے تو منظر ہی الگ تھا، پہاڑوں سے گھرا ایک وسیع و عریض سرسبز میدان اور اس میں لکڑیوں سے بنے خوبصورت گھر اور ان کے بیچ بھاگتے ہوئے بچے۔ مجھ سے سب سے پہلی ملاقات وہاں بھاگتے ایک گائے کے بچے سے ہوئی، جو مجھ سے زیادہ مجھ سے دوستی میں دلچسپی رکھتا تھا، میرے آگے  پیچھے بھاگنے اور مجھے گائیڈ کرنے کی ذمہ داری اس نے اٹھالی۔ اسی دوران گاؤں کی اکلوتی مسجد اور مدرسے کے مہتمم ایک باریش بزرگ کا گزر ہوا اور وہ پاس رک کر حال چال پوچھنے لگے۔ کراچی کا نام سنتے ہی ان کے چہرے پر خوشگوار سی حیرت آئی اور وہ تھوڑے مزید مہمان نوازی کے موڈ میں آگئے۔

12319302_993649280676794_1548307358_n
اڑنگ کیل، نیلم، آزاد کشمیر – تصویر: احسن سعید
11425580_665656403568985_778144468_n
اڑنگ کیل میں سکول سے واپس گھروں کو بھاگتے بچے – تصویر: احراز سلیم

بارش تھم چکی تھی اور سورج وادیء نیلم کے اس دور افتادہ گاؤں اڑنگ کیل میں میری زندگی کے حسین ترین دن کو مزید خوبصورت بنانے پر تُلا ہوا تھا۔ ہم نے وہاں موجود اک ہوٹل کا رُخ صرف چائے پینے کے لیے کیا تھا۔ پاؤں آبشار کے برف سے ٹھنڈے پانی سے جم چکے تھے اور جوتے بھاری ہو کر مجھے مزید تھکانے کی کوششوں میں مصروف تھے، لیکن میں، میرا دل، دماغ اور نظریں ان باتوں سے گریزاں اس خوبصورت وادی کو آنکھوں میں سمونے میں مگن تھے۔ مجھے معلوم تھا کہ میں حقیقت میں وہاں موجود ہوں لیکن مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ بعد میں یہ خواب ہی لگے گا۔ کچھ دیر میں بچوں کا اک ٹولہ وہاں سے گُزرا جس میں اک چھوٹے سے قد کی بچی اپنی معصوم مُسکراہٹ لیے مجھے دیکھتے ہوئے گُزری، میں مسکرایا اور ہاتھ بے اختیار کیمرہ کی طرف گیا، اور ایک ہی جھٹکے میں اس کشمیری کلی کی درجنوں تصویریں اتار لیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں، یہ باریک سے لمحے، زندگی کی بڑی مشکلوں اور پریشانیوں کو ہضم کر جاتے ہیں۔

اڑنگ کیل سے واپسی پر کچھ بچوں نے مجھے گھیر لیا۔

"انکل پیسے دیں، دس روپے۔”

"نہیں بچے، مانگنا بری بات ہوتی ہے۔”

"اچھا انکل بوتل دے دیں اور ہمارے گھر کی تصویر لیں”

"سب چھوڑو، آؤ سیلفی لیتے ہیں”

برف سے ڈھکے قصبے ہوپر کا قصہ پڑھیے: ہوپر کا سورج

Advertisements

19 خیالات “وادئ نیلم: جنت کا سفر – اڑنگ کیل” پہ

  1. پنگ بیک: وادئ نیلم: جنت کا سفر – کیرن | بلاگ اے

  2. Rukne ko dil nahi kr rha tha. Lakin kahin na kahin to khtam hona he tha kahani k is baab ne… Behtreen aur khoobsorat tehreer. Ap k alfazoon se yoon mehsos hua k jaisy main wahin hoon aur khud dekh rhi hoon un manazar ko. Kahani k aglay baab ka intizar rhy ga…

    پسند کریں

  3. پنگ بیک: ہوپر کا سورج – بلاگ اے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s