جو باہر تھا، وہ اندر ہے

ساری زندگی جو پڑھتے ہیں، کرتے ہیں، سنتے ہیں، جس پر عمل کرتے ہیں۔ اک دن پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ تو کرنا ہی نہیں تھا۔ ایسے تو سوچنا ہی نہیں تھا، ایسے تو دیکھنا ہی نہیں تھا۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ اگر سب نہ کرتے، نہ سوچتے، نہ دیکھتے تو پھر کیسے پتہ چلتا کہ یہ سب کرنا نہیں تھا۔

مقابلہ کرنا سکول سے سکھا دیا جاتا ہے کہ فرسٹ آنا ہے، دوسرے کو پیچھے چھوڑنا ہے، پھر وہی چیز زندگی کا مقصد بن جاتی ہے۔۔ دوسرے کو پیچھے چھوڑنا۔ چاہے وہ سکول کی پوزیشن ہو یا روڈ کی ٹریفک، چاہے وہ گورا رنگ ہو یا ٹوئٹر کے فالورز۔ ہر چیز میں آگے بڑھنا ہے، نہ بڑھ پائے تو تکلیف میں رہنا ہے، زندگی مشکل بنا لینی ہے۔ قبول کرنے سے زندگی کتنی آسان ہوجاتی ہے، کہ دوسرے کا بھی حق ہے، مجھے میرا مل گیا۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ قبول کرنا ہی تو مشکل ہوتا ہے، شکر ادا کرنا اتنا آسان کہاں ہے۔ ایسے ہی تو اللہ یہ نہیں کہتا ہے کہ تم میری کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

 میں تو ایسا ہی ہوں، ڈیل ود اٹ۔ میں کیوں بدلوں خود کو۔ لوگ نہیں بات کرتے نہ کریں، مجھے فرق نہیں پڑتا۔ پھر پتہ چلا، نہیں بھائی ایسا کچھ نہیں ہے۔ آپ کمفرٹ زون بنا کر رہتے ہیں، آپ ڈھیٹ ہیں، لوگ دور اس لیے نہیں کہ آپ مختلف ہیں، لوگ دور اس لیے ہیں کہ آپ کو پیار دینا نہیں آتا۔ دل نفرت سے بھر کر پیار کی امید لگانا چھوڑ دیں، اللہ آپ کا دل دیکھتا ہے باقی تو اس نے سب دیکھا ہوا ہی ہے۔

سوشل میڈیا کہتا ہے کہ سب کہہ دو، کچھ دل میں نہ رکھو۔ زندگی کی مشکلات، بیماریاں، ہنسی، غم، غصہ، نفرت، پیار، کامیابیاں، سب بتا دو دنیا کو۔ پھر پتہ چلا کہ سب بتا دینے سے سب ٹھیک تو نہیں ہوتا، پھر پتہ چلا کہ اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، لیکن سب کہہ دینا کہاں کا صبر ہے۔ آپ چھوٹی سی مشکل برداشت کر نہیں پارہے اور چیخنا چلانا شروع کردیا، آگے جا کر تو مرنے مارنے پر اتر آؤگے۔

جب سب ٹھیک چل رہا ہوتا ہے، تبھی ڈر لگ رہا ہوتا ہے، چونکہ سب ٹھیک ہے کوئی بڑا ‘کرنٹ’ لگنے کو ہے۔ پھر وہ کرنٹ لگتا ہے، جتنے بَل ہوتے ہیں سب نکال دیتا ہے، انداز بدل دیتا ہے، وہ دکھاتا ہےجو دیکھ نہیں رہے ہوتے۔ اس لیے کوئی نہ کوئی پریشانی تو ضروری ہے، "نیویں نیویں” ہی نکل جائیں کسی بڑے کرنٹ سے بچتے ہوئے، یہ چھوٹے کرنٹ بھی سیدھا کرتے رہتے ہیں۔

اللہ اوپر ہے، ساتویں آسمان پر، اسی سے دعائیں مانگتے ہیں۔ پھر اک دن کسی نے کہا کہ نہیں اللہ اندر ہے، تمہارے اندر۔۔۔ آواز دو۔ لیکن پھر آواز بھی ویسے دینی ہے جیسے اپنی گرل فرینڈ کو یاد کرتے ہو تو اسے پیغام بھیجتے ہو، جیسے اپنی ماں باپ کو یاد کرتے ہو تو کال کرتے ہو، جیسے بھائی بہن یا دوستوں کو یاد کرکے تڑپ کر بات کرتے ہو، ایویں بس فارمیلٹی پوری نہیں کرنی۔ بتاؤ اس کو کہ مجھے بات کرنی ہےپلیز، میری بات سن لیں پلیز۔جواب آئے گا۔۔۔ اور پھر جواب آیا۔

وہ اندر ہی تھا۔

Advertisements

3 خیالات “جو باہر تھا، وہ اندر ہے” پہ

  1. تم زمانے کی راہ سے آئے
    ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
    بھائی کیا لکھتے ہو، کیسے لکھتے ہو ، اچھا اُس مغل بچے کی کی طرح غیب سے مضامین آتے ہیں ، آتے تو پڑھ لیتے اور جواب بھی لکھ لیتے ہو – اُس کا رستہ سیدھا اس لیے اس پہ توجہ دیر سے جاتی زندگی کی گھمن گھیریاں دنیا کے جھمیلے دیرتک توجہ کا مرکز رہتے ہیں – مل جائے اُس کی راہ تو پھر ستے خیراں – جیتے رہو – اسد کے دوست تو ہمارے بھی دوست اور اس تحریر کے بعد تو پکے دوست

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s