پانچ ٹویپس پانچ سوالات: ٹوئٹر، اردو اور معاشرہ

میں ٹوئٹر اور اردو کو لے ہمیشہ سے ہی سوالات کا شکار رہتا ہوں، اور میرے نزدیک پاکستانی ٹوئٹر کو اردو کی آمیزش نے خوبصورت ترین بنا دیا ہے اور اس خوبصورتی کو اللہ کسی بھی نظربد سے بچائے۔ شائد بہت سے لوگ اس بات سے انجان ہوں گے کہ ٹوئٹر اردو کی دنیا بہت سے پاکستانیوں کے لیے وجود ہی نہیں رکھتی اور بہت لوگوں کا مکمل رہن سہن ہی یہی ہے، میں نے دراصل دونوں طرف ٹانگیں پھنسائی ہوئی ہیں تو تاثرات پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں۔

آج میں نے اپنے پانچ سوالات ان پانچ افراد کے سامنے رکھے جو اردو ٹوئٹر پر بہت سرگرم ہیں اور اپنے اپنے انداز میں اردو ٹوئٹر کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ ان سوالات کے جواب پانے کے لیے میں نے جعفر حسین، ابو لبابہ، امتنان قاضی، عثمان غنی اور ایک بے نام لکھاری کا انتخاب کیا، آئیے اردو ٹوئٹر اور سوشل میڈیا سے متعلق ان کے خیالات جانتے ہیں۔

پہلا سوال: آپ کے خیال میں اردو ٹوئٹر ویسے پھیل رہا ہے جیسے اس کو پھیلنے کا حق ہے؟

(Jafar_Hussein) جعفر حسین

پھیلنے کے حق والی بات میں سمجھا نہیں۔ میرے خیال میں اردو ٹوئٹر کی بڑھوتری بہت حوصلہ افزا ہے۔

آزاد (Azd69)

اردو ٹوئٹر برق رفتاری سے پھیل رہا ہے پہلے جو لوگ انگلش کے زریعے ٹویٹ کرکے اپنا رعب جھاڑتے تھے وہ بھی بالآخر اردو میں ٹویٹ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

امتنان  (ImtnanQazi)

’جیسا حق ہے‘ ویسا تو نہیں کہہ سکتے کہ روز مرہ میں اردو بول پانے اور اردو و بطور زبان استعمال کرنے والے ٹوئیپس کی تعداد کے مقابلے میں اردو ٹوئٹر کے صارفین (یا ٹوئٹر پہ اردو استعمال کرنے والوں) کی تعداد خاصی کم ہے۔۔۔ (اس سلسلے میں کچھ اعداد و شمار کا تجزیہ کر سکتے ہیں)۔ حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں اس تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔۔۔

عثمان غنی (UGpk)

جی! اردو ٹوئٹر کافی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اور اردو لکھنے اور بولنے والے افراد کی تعداد میں ایک واضح اضافہ نظر آتا ہے۔

ایک اردو ٹویپ

چیزوں کو ان کا جائز حق ملنا ایک تقریبا ناممکن بات ہے۔ شاید ہی جہاں میں کوئی چیز ہو جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ اسے اس کا جائز حق مل رہا ہے۔ جب ہم اپنے خدا اور ملک اور انسانوں کے حقوق ادا نہیں کرسکتے تو یہ تو پھر زبان ہے۔ بہرحال اردو ٹوئیٹر جس تیزی سے ترویج پذیر ہے وہ اطمینان بخش ہے۔

دوسرا سوال: کیا اردو ٹوئٹر کبھی سیاست اور شاعری سے آگے بڑھ پائے گا؟

(Jafar_Hussein) جعفر حسین

شروعات میں نہ سیاست تھی نہ شاعری۔ یہاں تک پہنچا ہے تو آگے بھی ضرور بڑھے گا۔

آزاد (Azd69)

دراصل شاعری اور سیاست وہ موضوعات ہیں کہ جن پر بہت لکھا جاتا ہے اور اس میں لوگوں کی دلچسپی کا وافر سامان موجود ہے، اردو ٹوئٹر نثر، طنز و مزاح کے حوالے سے سے پہلے ہی اس سے آگے ہے

امتنان  (ImtnanQazi)

اردو ٹوئٹر کا سیاست و شاعری تک محدود ہونا ٹوئٹر یا ٹوئپس کی محدودیت سے زیادہ ہمارے معاشرے کی عمومی ناکردگی کا مظہر ہے۔۔۔ ہم دنیا کے لئے سائنس، تفریح، اطلاعات کسی بھی میدان کا منبع نہیں، پس ہماری گفتگو ان موضوعات کا احاطہ نہیں کر پاتی۔۔ مختصر الفاظ میں یہ المیہ اس ناکردہ معاشرے سے جُڑی اردو ایسی بدنصیب زبان کا ہے، اردو ٹوئٹر کا نہیں۔۔۔

اردو ٹوئٹر کے موضوعات اسی قدر وسیع اور نموپذیر ہوں گے جس قدر ہمارا معاشرہ عمل کی نمو دکھائے گا۔۔

عثمان غنی (UGpk)

میرا سنجیدہ خیال یہ ہے ہہ اردو کو اسکا جائز حصہ مل رہا ہے۔ شاعری اور سیاست پہ ٹویٹس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اردو کو سپیس نہیں مل رہی۔ پاکستانی عموماً دو بین الاقوامی زبانیں جانتے ہیں، اسلیے ٹویٹس تقسیم ہو جاتے ہیں۔ یہ ہندی اور دیگر زبانوں کے ساتھ بھی ہے۔

ایک اردو ٹویپ

اردو ٹوئٹر مدت ہوئی ان چیزوں سے آگے نکل چکا ہے۔ نوواردان ٹوئٹر کے لئے البتہ سیاست اور شاعری ہی وہ سب سے آسان چیزیں ہیں جن کے ذریعے وہ ٹوئٹر کے اردو قبیلے میں شامل ہوتے ہیں کہ شاعری انٹرنیٹ سے با آسانی مل جاتی ہے اور مقبول سیاسی بیانیے پر کی گئی بونگیاں بھی دس پندرہ ریٹوئیٹ بہم کردیتی ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کچھ لوگوں نے ان ریٹوئیٹ کو اپنی سوشل میڈیائی زندگی کا محور و مقصد بنا لیا ہے اور کبھی اس سے باہر نہیں نکلنا چاہتے مگر جب دن بھر کی مشقت کا سورج غروب ہوجاتا ہے تو رات گئے ٹوئیٹر کی گلیوں میں کئی ایک نام فکر و فلسفے کے وہ انمول موتی بکھیرتے پھرتے ہیں جو کسی بھی دوسری زبان کے روشن افکار کے ہم پلہ اور کہیں کہیں بڑھ کر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد بے شک کم ہے مگر انگریزی بولنے والی اربوں کی آبادی میں بھی شیکسپیئر ایک ہی تھا۔

تیسرا سوال:  اردو میں ٹویٹس کرنے والے خود کو صرف اردو ٹوئٹر کمیونٹی تک رکھنا ہی کیوں پسند کرتے ہیں؟

(Jafar_Hussein) جعفر حسین

یہی سوال انگلش میں ٹوئٹ کرنے والوں سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ دو مختلف دنیاؤں کے باسی کہہ لیں۔ پاکستانی اردو اور انگلش ٹوئٹر دو الگ دنیاؤں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے مسائل/مشغلے سب الگ ہیں، شاید اسی لیے۔

آزاد (Azd69)

اردو میں ٹویٹ کرنے والوں کے لیے شاید آپشن ہی یہی بچتا ہے کہ وہ خود کو اس کمیونٹی تک محدود رکھیں، دوسری زبانوں کے ہیش ٹیگز وغیرہ کے ساتھ دوسری کمیونٹیز تک بھی رسائی ممکن ہے

امتنان  (ImtnanQazi)

اردو ٹوئٹر کے استعمال کرنے والوں کے پیشِ نظر، بالعموم اس رویے کی دو وجوہات ہوتی ہیں

اول، اردو ٹوئٹر ابھی نمو پذیر اور عمر کے ابتدائی حصے سے گزر رہا ہے۔۔۔۔ اس کی ترویج کے پیشِ نظر مسلسل اردو ٹوئٹر کا استعمال اردو ٹوئپس کے میل جول اور بات چیت کو کسی حد تک محدود کرتا ہے۔۔۔

دوئم، اردو ٹوئٹر کے صارفین، دیگر زبانوں کے استعمال پر شاید اردو ایسی مہارت نہیں رکھتے۔۔۔ اردو ٹوئٹر، سوشل میڈیا کا مقامی رنگ لئے ہونے کے باعث جوہری طور پر اردو صارفین کو اردو کی آسانی کے ساتھ ساتھ اردو کی محدودیت بھی دیتا ہے۔۔۔۔

عثمان غنی (UGpk)

میں ذاتی طور پہ اس رویے کے خلاف ہوں۔ اردو ٹویٹس کرنے والوں کو خود کو تنہا نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے انٹرنیشنل میڈیا پہ آنے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ شاید اسکی وجہ انگریزی کو اوائڈ کرنا ہے۔

ایک اردو ٹویپ

یہی بات انگریزی یا کسی اور زبان کے ٹوئیپس کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ دراصل یہ عین انسانی فطرت ہے اور میں اس پر سوال بے معنی سمجھتا ہوں۔
اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک طرز زندگی کی علامت ہے جس کی پہچان شائستگی، تہذیب اور بلند اطوار ہیں۔ ہر انسان اپنے ایسوں کے ساتھ ہی وقت گزارنا پسند کرتا ہے اور اردو ٹوئیپس کو بھی اس بات کی اجازت ہونی چاہئے!

 چوتھا سوال: معاشرے میں نظر آنے والا بگاڑ سوشل میڈیا پر جوں کا توں پایا جاتا ہے، کیا سائبر کرائم قانون اس معاملے میں کہیں اثر انداز ہوسکتا ہے؟

(Jafar_Hussein) جعفر حسین

قوانین سے معاشرے میں سدھار نہیں آتا۔تربیّت سے آتا ہے۔ سماج سدھار کی کوئی تحریک اس وقت میری نظر میں تو نہیں۔ مستقبل میں ہو تو کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ٹوئٹر پر سدھار بھی تبھی آئے گا جب ہماری روزمرہ زندگی کے رویوں میں بہتری آئے گی۔

آزاد (Azd69)

سائبر کرائم بل کا نفاذ اگر سیاسی، مذہبی اور لسانی تعصب کے بغیر ہو تو جرائم پر قابو پانا چنداں مشکل نہیں ہے

امتنان  (ImtnanQazi)

سائبر قانون کی موجودگی یقیناً ایک مثبت امر ہے، مگر میری رائے میں اس کی موجودگی سے کہیں زیادہ بڑا سوال اس کی عملیت اور اس پر عملدرآمد کے طریقۂ کار کا ہے۔۔ یہ قانون اسی قدر مفید اور کارآمد ثابت ہو سکتا ہے جتنے ملک میں موجود دیگر قوانین، ضرورت صرف اس کے عملدرآمد کے طریق کو واضح کرنے کی ہے۔

عثمان غنی (UGpk)

سائبر کرائم بل بھی اسی طرح غلط استعمال ہو گا جیسے ملک میں ہر قانون مخالف کو دبانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مجھے سائبر کرائم بل سے کوئ اچھی امید نہیں۔

ایک اردو ٹویپ

میں سوشل میڈیا کو معاشرے کے عکاس آئینے سے تشبیہہ دیتا ہوں۔ یہاں لوگ جانے انجانے میں اپنی اصل لے کر آتے ہیں اور ان کی گفتار سے آپ معاشرے کی ترقی یا تنزلی کو ماپ سکتے ہیں۔ سائبر کرائم بل سے جہاں بہت سے فوائد میسر ہوں گے وہیں یہ نقصان بھی رہے گا کہ سزا کے ڈر سے معاشرہ منافقت پر آمادہ ہوجائے گا۔ کسی بھی مرض کی اصلاح کے لئے اس کی بروقت تشخیص ضروری ہے اور جب معاشرہ بیماری کی علامات سزا کے خوف سے دبا جائے گا تو علاج ہوگا کس بات کا؟

پانچواں سوال:  کیا سوشل میڈیا صرف بھڑاس نکالنے کا ذریعہ ہی بن چکا ہے یا زندگیوں پر دوسرے معنوں میں بھی اثر انداز ہورہا ہے؟

(Jafar_Hussein) جعفر حسین

بھڑاس نکلنی بھی ضروری ہے۔ زندگیوں پر عمل اثر انداز ہوا کرتا ہے۔ سوشل میڈیائی وعظ /طعنے/دشنام اثر انداز نہیں ہوتے۔

آزاد (Azd69)

سوشل میڈیا صرف بھڑاس کا زریعہ نہیں ہے یہ لوگوں کی عملی زندگی میں گھر بنا چکا ہے، جیسے عملی زندگی میں انسان ایک زندگی رکھتا بالکل ٹویٹر پر بھی اسکی ایک شخصیت اور خاکہ ہوتا ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے.

امتنان  (ImtnanQazi)

انسانی زندگی پہ سوشل میڈیا کے اثرات بھڑاس نکالنے سے کہیں زیادہ وسیع تر ہیں۔۔۔ ممبئی میں فون پہ لکھے جانیوالا پہلا ناول ہو یا انگلستان، ترکی ، مقبوضہ کشمیر کے حالیہ واقعات میں منظم عوامی ردِ عمل۔۔۔۔ عمومی دہشتگردی کے واقعات پہ عالمی یکجہتی کے مظاہرے ہوں یا مذاہب و سائنس کے مباحث۔۔۔۔ یہاں سب کچھ موجود ہے۔۔۔ ہاں مگر موضوعات کا تنوع اور تناسب معاشرے کی نمو کا براہِ راست عکاس ہونے کے باعث کم یا زیادہ ہونا ایک فطری امر ہے۔

عثمان غنی (UGpk)

مجھے مثبت سوچنا اچھا لگتا ہے۔ میں یہی کہوں گا کہ بہت سی جہتوں میں سوشل میڈیا کے فوائد بھی ہیں۔ انفارمیشن آسان اور زیادہ ہے۔ کسی پہ ظلم ہوا ہو تو میڈیا پہ نظر نہ بھی آۓ، سوشل میڈیا پہ عیاں ہو جاتا ہے۔ بہت کچھ ادب، شعر و سخن، اردو بلاگنگ کے حوالے سے ہو رہا ہے جو قابل ستائش ہے۔ مجھے تو ٹوئٹر سے قبل بلاگنگ کا علم ہی نہیں تھا۔

ایک اردو ٹویپ

سوشل میڈیا معاشرے کے محروم افراد کے لئے فرشتے کی طرح ہے۔ وہ تمام افراد جو اپنی شخصیات میں موجود جھول کی وجہ سے حقیقی زندگی میں لوگوں سے ملنے سے کتراتے ہیں وہ بھی سوشل میڈیا پر پندرہ بیس ہزار فالوورز کے ساتھ اپنی عزت نفس کے پنکچر غبارے میں ہوا بھر لیتے ہیں۔ بقول ایک مصنف، جس کا دنیا میں کوئی نہیں ہوتا اس کا ٹوئیٹر پر اکاؤنٹ ہوتا ہے۔ اور یہ ان بے شمار پہلوؤں میں سے ایک ہے جو یہ سوشل میڈیائی اونٹ رکھتا ہے کہ جس کا کبھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ آج کس پہلو بیٹھے گا۔

مجھے تو کافی جوابات مل گئے، کیا آپ کو ملے؟

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s