ایک تصویر ایک کہانی: سیلفی

14111829_1179332872108433_890091313_n

اڑنگ کیل سے واپس کیل آتے ہوئے، پہاڑ پر بنے اینٹوں سے بنے رستے پر قدم جمائے زور لگاتے، میں پھولی سانس کے ساتھ گرمی سے تنگ آچکا تھا۔ کشمیری بزرگوں کا ایک گروہ قریب سے گزرا تو ہم نے سلام  کی آواز بلند کی تو ادھر سے ایک مسکراتا ہوا پرجوش سا جواب آیا۔ صبح جب ہم بارش میں چلتے آرہے تھے تو ایک کشمیری نوجوان نے روک لیا جو حلیے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے ہالی وڈ اداکار مارک روفیلو کسی فلم میں ٹیچر کا کردار ادا کررہا ہو، اس نے ہمیں بارش میں دھیان سے چلنے کا کہا اور پوچھا کہ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس کے بعد ایک کم عمر سا لڑکا اڑنگ کیل گاؤں سے کیل تک ہمارے پیچھے پیچھے آیا اور ہم سے صرف پیسے مانگتا رہا، اس کی اس محنت اور لگن پر پیار بھی آیا اور افسوس اس بات کا کہ یہاں آنے والے سیاحوں نے بچوں کو پیسے دے دے کر ان کو صرف مانگنے پر ہی لگا دیا ہے کہ ہر بچہ اسی تگ و دو میں لگا نظر آتا ہے کہ اسے کچھ مل جائے۔

"انکل یہ بوتل دے دیں۔”

"انکل پیسے دے دیں۔”

"انکل ادھر آئیں۔”

تین چھوٹی بچیوں اور ایک کمسن بچے پر مشتمل اس گروپ نے مجھے گھیرے میں لے لیا، میں کافی تھکا ہوا تھا لیکن ان کے چہروں پر نظر آتی شرارت اور اعتماد نے مجھے مسکرانے پر مجبور کیا۔

"چلو آؤ تمہارا گھر دیکھتے ہیں”، میں ساتھ چل دیا۔ بچوں نے راستے  کے  کنارے پر ایک مٹی سے ایک چھوٹا سے گھر بنا رکھا تھا جس پر کھلونے سجائے ہوئے تھے، میں نے ان کی خوشی کی خاطر اس کی تصویر لی۔ پیسے مانگنے سے منع کرتے ہوئے میں اپنے پیچھے آنے کا کہا۔

"چلو سیلفی لیتے ہیں”

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s