کالے بکسے کا خزانہ

"اس مہینے کا رسالہ آگیا ہے؟”، امید بھری نظروں سے وہ کتاب گھر کے دکاندار کے سامنے کھڑا وہی سوال پوچھ رہا تھا جو وہ پچھے چار دن سے روزانہ پوچھتا چلا آرہا تھا۔ دکاندار نے اسے مسکراہتے ہوئے دیکھا اور بولا، "تمہیں چین نہیں ہے؟ جب بھی آیا میں تمہیں خود بتا دوںگا، تمہارے ابو یہاں سے گزرتے رہتے ہیں ان کو بتا دونگا۔” اس کی پرامید آنکھوں میں معصوم سی اداسی نے جگہ لےلی، وہ انہی قدموں پر واپس گھر کو لوٹ گیا۔

اس کی صبح "تعلیم و تربیت” پڑھنے پر ہوتی اور شام کو وہ "پھول” کی تلاش میں ہوتا، گاؤں میں صرف ایک کتاب گھر ہونے  کی وجہ سے "آنکھ مچولی” اور "نونہال” تو وہاں آتے ہی نہیں تھے۔ اگر آبھی جاتے تو ان کو خریدنے کے لیے مزید پیسے وہ کہاں سے لاتا، ہفتوں مہینوں کا جیب خرچ جوڑ کر جو رسالے وہ خریدتا تھا کچھ مہینوں بعد انہی کو بیچ کر وہ مزید خریدنے کے  لیے پیسے جمع کرتا تھا۔ اس کے گھر میں رسالے خریدنا ہی شاید سب سے بڑی "فضول خرچی” ہوگی جس پر کبھی بہت زیادہ نہ ٹوکا گیا۔ رسالے پڑھنے کی باقی بھوک وہ کچھ دوستوں کے ساتھ تجارت کرکے پوری کرتا۔ گھر کے سٹور میں پڑے ایک پرانے سے کالے بکسے کو اس نے تالا لگایا ہوا تھا جس میں اسکا رسالوں کا خزانہ پڑا تھا، ہر رسالہ جو اسے بہت عزیز ہوتا وہ اس بکسے میں جگہ پاتا، نہ ہی وہ تجارت میں استعمال ہوتا اور نہ ہی بیچا جاتا۔

رسالوں کے انتظار کی بڑی وجہ وہ سب تحاریر اور ایڈیٹر کے نام خطوط بھی ہوتے تھے جن کے شائع ہونے کا اسے بے چینی سے انتظار ہوتا تھا، کئی بار تو وہ گھر کے پی ٹی سی ایل سے ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر کو فون کرچکا تھا کہ اگلی بار اس کا ذکر بھی "پھول” میں آئے گا۔زیادہ تر اس کا دل ہی ٹوٹا، لیکن ہمت ہارنے والی چیز وہ تھا نہیں۔ اخبارِجہاں کے صفحہء اطفال پر اپنی لکھی تحریر دکھا کر وہ دوستوں اور گھر آئے رشتے داروں کے آگے سینہ فخر سے بلند کرچکا تھا۔

گاؤں میں کوئی لائیبریری نہیں تھی اور نہ ہی کوئی علمی محفلوں کے سجانے کا رواج تھا، جو کرنا ہے خود کرنا ہے، زیادہ سے زیادہ ہر جمعرات کو محلے  کی مسجد میں رات کو لائیٹیں بند کرکے اللہ ہو کا ورد ہوتا تھاجس میں بھی لونڈے اس لیے جاتے تھے کہ شغل لگ جائے گا یا اس کے بعد چاول کھانے  کو ملیں گے، زیادہ بڑی وجہ لنگر پر حملہ آور ہونا ہی ہوتا تھا۔

وہ گاؤں کے کتاب گھر سے رسالوں کا سب سے بڑا خریدار تھا جو تقریباً روزانہ ہی وہاں کا ایک چکر ضرور لگاتا تھا، شائد یہی وجہ تھی یا دکاندار نے تنگ آکر اسے کتاب گھر کی "لائف ٹائم ممبرشپ” دے دی اور کہاں کہ تم ایسا کرو اندر بیٹھ جایا کرو اور سارا دن جو چاہو پڑھ لیا کرو۔ پھر کیا تھا، وہ روزانہ سکول سے سیدھا وہیں جاتا اور زمین پر بیٹھ کر اپنے اردگرد پڑی سینکڑوں کتابوں سے پسندیدہ کہانیاں نکالتا اور بیٹھا پڑھتا رہتا۔ عمروعیار سے لے کر ٹارزن تک، سچے اسلامی واقعات سے لے  کر میسور کے  ٹیپو سلطان تک اب اس کے پاس سب کچھ تھا پڑھنے کے لیے۔

گاؤں کا کتاب گھر چھوٹا تھا، وہاں اب کچھ زیادہ بچا نہیں تھا پڑھنے کے لیے، اب اسے ہمیشہ اپنے ننھیال فیصل آباد جانے کا انتظار رہتا تھا جہاں جھنگ بازار کے ریگل چوک پر ایک پرانے رسالوں کی دکان تھی جہاں پر آدھی قیمت پر پرانے رسالے، میگزین ملتے تھے۔ اس نے تو جیسے نئی دنیا دریافت کرلی تھی، نت نئے رسالے اور میگزین جو کبھی گاؤں میں دیکھے تک نہ تھے اور پھر وہ لڑکپن سے جوانی کے دور میں قدم رکھ رہا تھا۔۔ اسی لیے شائد اسے "روزی راسکل” نامی عمران سیریز کے ناول کا سرورق پسند آگیا۔عمران سیریز کے ساتھ ساتھ اب وہ جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ بھی پڑھنے لگ گیا تھا، ایک بار اس کے ابو کی نظر پڑی تو اسے بہت سختی سے منع کردیا گیا، لیکن وہ کہاں باز آنے والا تھا۔ باتھ روم سے لے کر چھت تک، سردیوں میں رضائی کے اندر ٹارچ تک جلا کر پڑھنا۔۔ اسے بس پڑھنا تھا۔۔ یہ اس کا نشہ تھا۔

پھر وقت گزرا، زمانہ بدلا، گھر میں کمپیوٹر اور گاؤں میں انٹرنیٹ آگیا۔ اس کا پڑھنے کا شوق کمپیوٹر کی سکرین کے جھمیلوں میں کہیں بھٹک گیا۔۔ اور وہ گاؤں چھوڑ کر شہر کے رنگوں میں آباد ہوگیا۔

لیکن سنا ہے کہ وہ کالا بکسہ ابھی بھی اس سٹور میں پڑا ہے۔۔ اس کے خزانے سمیت۔

Advertisements

5 خیالات “کالے بکسے کا خزانہ” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s