کیا پاکستانی بچے اپنے ٹی وی سے خوش ہیں؟

"بل بتوڑی ناساں چوڑی، ادی میٹھی، ادی کوڑی، آئی ایم سوری، آئی ایم سوری”

یہ الفاظ سن کر آج کل کا کوئی بھی پاکستانی جو اپنی زندگی کی دو دہائیاں گزار چکا ہے مسکرائے بغیر نہ رہ پائے گا، اور ‘عینک والا جن’ کی قصہ چھیڑ دے گا۔ نستور، زکوٹا، ہامون جادوگر، بل بتوڑی، چارلی ماموں جیسے کردار آج تک لوگوں کو ذہن نشین ہیں۔ اے حمید کے قلم سے لکھا گیا اور حفیظ طاہر کی ہدایات پر مبنی یہ ڈرامہ پاکستانی ٹی وی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اگر آج بھی بچوں کو عینک والا جن دکھایا جائے تو وہ بھی ویسے ہی شوق سے دیکھتے ہیں جیسے ہم 20 سال پہلے دیکھا کرتے تھے۔کہانی، کردار، سکرپٹ اور اداکاری اتنی جاندار ہے کہ کوئی بھی اس ڈرامے کے نشے میں گرفتار ہوسکتا ہے۔ کمپیوٹر گرافکس کی ٹیکنالوجی نہ ہونے کے باوجود ہدایت کار نے کمال خوبی اور محنت سے وہ سارے مناظر شامل کیے جو کسی بھی سائنس فکشن ڈرامے کا خاصہ ہوتے ہیں۔

Ainak Wala Jin PTV

یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہمیں بچپن میں اتنے معیاری پاکستانی ڈرامے اور ٹی وی پروگرام دیکھنے کو ملے جو تخلیقی لحاظ سے کسی بھی طرح کم نہ تھے۔ پی ٹی وی کی جانب سے ‘عینک والا جن’ کے علاوہ ماضی میں بچوں کے لیے بیشتر ایسے ڈرامے بنے جو ہر گھر میں شوق سے دیکھے جاتے تھے جن میں الف لیلی، زنبیل، بھوت بنگلہ، کوشش اور  ہم تین قابل ذکر ہیں۔ پورے گھرانے کا ایک ساتھ بیٹھ کر بلا جھجک ڈرامے دیکھنا، بچوں کا قابل دید جوش قابل جیسا آج کل ‘شرلاک’ اور ‘گیم آف ٹھرونز’ کے لیے پایا جاتا ہے، یہاں تک کہ اسکولوں اور کالجوں میں ان ڈراموں کی پیروڈی تک کی جاتی تھی۔ یہ اداکار بچوں کے لیے سپر ہیروز کا درجہ رکھتے تھے، لیکن اس ڈرامے کے بعد پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں یہ خلا آج تک نہ پورا ہوسکا۔  یہ ایک ایسی انڈسٹری ہے جس میں ہمیں اپنے پڑوسی ملک بھارت پر ہمیشہ سبقت رہی، جہاں پاکستان میں بھارتی فلموں کا طوطی بولتا ہے وہیں انڈیا میں پاکستانی ڈراموں کے گن گائے جاتے۔ لیکن کیا اب بھی ایسا ہی ہے؟ دو دہائیاں گزرنے کے بعد آج بھی ہم ‘عینک والا جن’ کی سطح کا بچوں کے  لیے کوئی دوسرا ڈرامہ بنانے میں ناکام رہے، جب کہ سرحد کے اس پار بچوں کی ان دلچسپیوں کو سنجیدگی لیا گیا اور پھر اپنی کوششوں کو یہاں ایکسپورٹ بھی کردیا گیا اور اس میں کامیابی بھی سمیٹی گئی۔

مقامی سطح کی بات کی جائے تو بچوں کے لیے پاکستان میں کتنے ڈرامے اور کارٹون بنتے ہیں یا کتنے پاکستانی ٹی وی چینلز ہیں جو صرف بچوں کے لیے وقف ہیں؟ حتی کہ انٹرنیٹ پر بھی اگر بچوں کے اردو کارٹون شوز یا موبائل ایپلی کیشنز تلاش کیے جائیں تو زیادہ تر بھارت ہی بھارت نظر آتا ہے۔ ہر دوسرے گھر میں ہندی میں ڈبنگ کے ساتھ کارٹون چل رہے ہوتے ہیں جسے دل کو تسلی دینے کے لیے اردو کارٹون کہا جاتا ہے۔  ہمارے بچوں کا کیا قصور ہے کہ انہیں پڑوسی ملک میں بنے اور وہاں کی اقدار میں ڈھلے کارٹون اور ڈرامے دیکھنے پڑرہے ہیں۔ جس طرح ہمیں اپنے بچپن کے ڈرامے اور ٹی وی پروگرام اپنے ملک کی اقدار اور محبت کی یاد دلاتے ہیں کیا ان کا بچپن بھی ان کو اپنے معاشرے سے جوڑے گا؟ یقیناً نہیں۔اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہم ایک ایسی نسل تیار کررہے ہیں جو مقامی اقدار اور زبان کو لے کر اندر سے کھوکھلی ہوگی۔

آج کل کے کتنے بچوں کو اپنے کارٹونوں میں لاہور، کراچی، اسلام  آباد،  پشاور یا کوئٹہ نظر آتا ہے؟ کتنے بچوں کے سپر ہیروز ایسے ہیں جن کا نام عمران، ماجد یا مینا ہے؟ کتنے ایسے ٹی وی شوز یا ویڈیو گیمز ہیں جو بچوں کو پاکستان سے جوڑتی ہیں؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب ابھی نہ ڈھونڈے گئے تو کافی دیر ہوجائے گی۔

 افسوس اس بات کا ہے کہ  جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں دنیا تھری ڈی فلموں اور ورچوئل رئیلٹی کے مزے لینے میں مصروف ہے وہاں ہم ابھی تک ٹی وی پر منہ میں آم ٹھونسنے یا موبائل فون جیتنے کے لیے کاکروچوں کے ساتھ نہانے کے کرتب دیکھنے  میں ہی خوشی محسوس کرتے ہیں۔حکومت کا تو معلوم نہیں لیکن بڑے میڈیا گروپس کو اس انڈسٹری میں دلچسپی دکھاتے ہوئے آگے آنا چاہیے اور اس خلا کو پر کرنا چاہیے، جو کہ بچوں کے لیے خالص پاکستانی اور اردو ٹی وی شوز اور کارٹون نہ ہونے کی صورت میں ہم خود پیدا کررہے ہیں۔ موبائل اور سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی ایسی منفرد چیز کو کامیاب کرنا اب زیادہ مشکل بھی نہیں رہا۔

انٹرنیٹ کی سطح پر بچوں کے لیے اردو کہانیوں سے متعلق ایک ویب سائٹ ٹافی ٹی وی نظر سے گزری جو کہ ایک اچھی کاوش ہے، جس میں ویڈیو داستان گوئی کے علاوہ بچوں کو اردو نظموں سے بھی آشنا کیا جارہا ہے۔ بھلا ہو شرمین عبید چنائے کا جنہوں نے ایک معیاری کارٹون فلم پاکستانی بچوں کو دی اور اسے بہت سراہا بھی گیا لیکن کیا صرف ایک فلم کافی ہے؟ یا پھر ہم بچوں کو "شیوا” اور "چھوٹا بھیم” ہی دینے  میں خوش ہیں؟

یہ مضمون سب سے پہلے ڈان میں شائع ہوا

Advertisements

ایک خیال “کیا پاکستانی بچے اپنے ٹی وی سے خوش ہیں؟” پہ

  1. پنگ بیک: کیا یہ شیشہ گر اردو کو بچا لے گا؟ – بلاگ اے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s