کیا یہ شیشہ گر اردو کو بچا لے گا؟

"میری ہاتھ سے بنائے گئے اینی میشن پر مبنی فلم ‘شیشہ گر’ میں ایک ایسا معاشی اور سیاسی یورپی ماحول دکھایا گیا ہے جو پاکستان سے ملتا جلتا ہے، لیکن میرے کردار اردو بولیں گے، میری قومی زبان”، یہ الفاظ عثمان ریاض کے ہیں جو مانو اینی میشن سٹوڈیو کے روح رواں ہیں جو پاکستان کا پہلا ایسا سٹوڈیو ہے جہاں ہاتھ سے بنائے گئے اینی میشنز پر کام کیا جاتا ہے۔

عثمان اس سے پہلے کلاسیکل پیانو اور گٹار کے منفرد ہنر کی بدولت دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں، اور دنیا کے سب سے کم عمر ٹی ای ڈی فیلو ہونے کا اعزاز بھی ان کے پاس ہے، ہم نے حال ہی میں عثمان کو کوک سٹوڈیو پاکستان میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے دیکھا ہے۔

usman-riaz
عثمان ریاض، تصویر: فیس بک

عثمان کی فلم ‘شیشہ گر’ دو ایسے بچوں کے بارے میں ہے  جو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک فرضی واٹر فرنٹ ٹاؤن میں رہتے ہیں۔  ونسنٹ اپنے والد کی دکان پر شیشہ گری کا کام سیکھ رہا ہوتا ہے جبکہ علیز وائلن کے ساز میں اپنی آواز ڈھونڈنے کی جدوجہد میں ہوتی ہے۔ اس فلم میں یہ بھی دکھایا جائے گا کہ کیسے جنگ زدہ علاقوں میں رہنے والے بچوں کی زندگیاں جنگوں سے متاثر ہوتی ہیں، اور کیسے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کی باہمی پیچیدگیاں بڑھتی جاتی ہیں۔

یہ پاکستان کی پہلی ایسی فلم کہلائے گی جو مکمل طور پر ہاتھ سے بنائے گئے اینی میشن پر مبنی ہے۔ فلم میں خالص اردو زبان کا استعمال کیا گیا ہے جو آج کل کے بچوں کو ٹی وی پر کم ہی سننے کو ملتی ہے، یورپی ماحول اور کرداروں پر فلمائے اردو ڈائیلاگز دیکھنے والوں کو ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیتے ہیں۔ یہ ایک بہترین اور بہادر تجربہ ہے۔

sheeshagar-usman-riaz
شیشہ گر سے لی گئی تصویر، از مانو اینی میشن سٹوڈیو

یورپی ماحول میں اردو زبان؟

عثمان ریاض کہتے ہیں کہ”مجھے کبھی بھی عجیب نہیں لگا کہ مولن، جو کہ چین میں دکھایا گیا ہے، اور الہ دین، جو مڈل ایسٹ کا کردار ہے،  وہ امریکی لہجے میں بولتے ہیں اور ان کی بول چال مغربی بچوں کی طرح ہے۔ ہالی وڈ میں بنائی گی فلموں میں دوسری ثقافتوں کو لیا جاتا ہے اور پھر ان میں مغربی اقدار اور زبان کو شامل کردیا جاتا ہے۔  لیکن میں اس کو ایک اور نظریہ سے دیکھتا ہوں، ان فلموں کی بدولت مجھے دوسری ثقافتوں، زبانوں، اور نظریات جاننے کا موقع ملا جو میں شاید ویسے نہ جان پاتا۔”

اردو، تاریخی اہمیت کی حامل زبان ہے اور مجھے اسے ان لوگوں کے سامنے لانا ہے جو اس کی خوبصورتی سے نا واقف ہیں اور دوسری بات یہ کہ مجھے اپنے ملک پاکستان میں لوگوں کو باور کرانا ہے کہ  وہ نوآبادیاتی نظام کے اثرات سے نکل کر اب اپنے آپ کو مزید جانیں، اور نکھاریں۔ پرانے فنکار مردہ اردو شاعروں اور نئے فنکار مغرب کی طرف دیکھتے ہیں۔ نوجوان انگریزی زبان کو اردو سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ کیوں نہ چیزوں کو بدلا جائے؟ کیوں نہ ایک مغربی ماحول دکھایا جائے جہاں کردار آج کل کے پاکستانی نوجوانوں سےزیادہ اچھی اردو بول رہے ہوں؟”

still-from-the-glassworker-courtesy-mano-animation-studios
شیشہ گر سے لی گئی ایک تصویر، از مانو اینی میشن سٹوڈیو

شیشہ گر بنانے والے مانو سٹوڈیو کی ٹیم میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ملائشیا، کینیڈا، جنوبی افریقہ، امریکہ اور انگلینڈ کے لوگ بھی شامل ہیں۔ کک سٹارٹر نامی ویب سائٹ پر اس پراجیکٹ کو دنیا بھر سے 1 لاکھ 16 ہزار ڈالرز کی امداد وصول ہوئی ہے اور ٹیم  اب فلم کے پہلے 10 منٹ پر کام کررہی ہے۔

عثمان نے پاکستان میں ہاتھ سے بنائے جانے والی اینی میشن کی انڈسٹری کی بنیاد رکھی ہے، اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس سے پاکستانی آرٹسٹوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہونگے اور یہ انڈسٹری غیر معمولی ہنر رکھنے والے پاکستانی آرٹسٹوں کو فن اور کامیابیوں کی بلندیوں پر لے کر جائے گی۔

mano-animation-department-in-pakistan
پاکستان میں مانو کا اینی میشن ڈیپارٹمنٹ، تصویر: کک سٹارٹر

ایسے وقت میں جب پاکستان میں گنے چنے لوگ اردو اور اینی میشن انڈسٹری کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، یہ پاکستانی نوجوان ایک نئی سوچ کو لے کر ایک جدوجہد کا آغاز کر رہا ہے۔ کلچرل اپروپریشن کے زاویے پر چلتے ہوئے اردو زبان اور پاکستانی اقدار کو بین الاقوامی سطح پر لانے کے لیے عثمان ریاض کا ساتھ دینا ہر اس پاکستانی کا فرض بنتا ہے جو آنے والی نسلوں کو مقامی اقدار کے رنگ میں ڈھلا دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ کرائے کی ایسی کھوکھلی تہذیبوں میں جن سے کچھ حاصل نہ ہو پائے گا۔

آئیں، شیشہ گر کا ٹریلر دیکھتے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s