وہ لاکھوں میں ایک لمحہ

کبھی کہیں سڑک پر، کسی گلی میں، کسی رستے پر جب چل رہا ہوتا ہوں تو اچانک کوئی منظر، کوئی لمحہ ایسا آتا ہے جو پہلے کبھی نہ کبھی زندگی میں ہوچکا ہوتا ہے، گزر چکا ہوتا ہے، دیکھا ہوتا ہے یا گزارا ہوتا ہے۔ چاہے وہ درختوں کی ایک قطار ہی کیوں نہ ہو، کسی مکاں کی خوشبو، کسی راہگزر کا سایہ یا کسی سیکنڈ کے ہزارویں حصے کا ایک باریک سا احساس۔ وہ ایک لمحہ اٹھا کر مجھے میرے قصبے کی گلیوں میں پھینک آتا ہے، لاہورکی دھند بھری سڑکوں پر چھوڑ آتا ہے، فیصل آباد کے مصروف بازاروں میں لے چلتا ہے، وہ لمحہ مجھے رات کی تاریکیوں میں چادر لپیٹے ٹھنڈے رستوں پر منہ سے دھواں نکالتے بچپن کی فلم میں لے جاتا ہے۔ وہ لمحہ مجھے اپنے ابو کی انگلی تھامے عید کی نماز کے لیے عیدگاہ کی پگڈنڈیوں بھرے رستے پر بھگاتا ہے۔ وہ لمحہ مجھے رضائی میں لیٹ کر بھائی کےساتھ مونگ پھلیاں کھلاتا ہے۔ بہنوں کی ہنسی بھری سرگوشیاں سنواتا ہے۔ باورچی خانے میں بیٹھ کر امی کے ہاتھ کے تازہ پراٹھے کی خوشبو سنگھاتا ہے، بائیسکل پر بٹھا کے دوستوں سے ریس لگواتا ہے، کیا ہے یہ لمحہ، جو اچانک سے بارش سے گیلی چھت پر پتنگ اڑواتا ہے، دھوپ میں چارپائی پر لیٹ کر سورج سے آنکھ مچولی کھلواتا ہے، سکول کی آدھی چھٹی میں گھر کی طرف دوڑیں لگواتا ہے، تپتی دھوپ میں اپنے گھر کے صحن میں ننگے پاؤں جلواتا ہے۔ پردیس میں بیٹھے رشتے داروں کو خط لکھواتا ہے، رسالوں کی دکان کے چکر لگواتا ہے، دوسرے شہروں میں نوکری کرتے بھائیوں کی اک جھلک دیکھنے کا انتظار کرواتا ہے، ابو کے ساتھ دکان میں ہاتھ بٹواتا ہے۔ یہ اک عجب لمحہ، سکول کے قومی ترانے سے لے کر کلاس میں مرغہ بننے تک کی مار پڑواتا ہے۔ بسوں کے گندے دھکوں، ویگنوں کی چھوٹی سیٹوں اور موٹر سائیکل کے جھٹکوں سے ملواتا ہے، بھائی سے کشتی کرواتا ہے، اور امی سے سر پر تیل کی مالش۔ لاہور کے انٹرنیٹ کلبوں کی پراسراریت سے ڈراتا ہے، جی سی یونیورسٹی کے خواب دکھاتا ہے، ہاسٹل کی دیواریں پھلانگنے سے کالج کی بے عزتی تک، ہر رخ دکھاتا ہے۔  ٹیوب ویل کی ڈبکیوں سے سانس پھلاتا ہے، کھیتوں کے کیچڑ میں جوتے گنواتا ہے، راہگزروں کو پٹاخوں سے ڈراتا ہے۔ تیز بارش میں گلیوں میں بھگاتا ہے، آسمانی بجلی کی چمک کو اللہ کی فوٹوگرافی کہلواتا ہے، رات کو بجلی جانے پر چھت کے درجنوں چکر لگواتا ہے، امی کا ہاتھ پکڑ کر سونا، ابو کی اک جھڑک پر آنکھ بند کر لینا،  یاد دلاتا ہے وہ  لاکھوں میں ایک جان لیوا لمحہ۔

نہ ان لمحوں پر میرا کنٹرول ہے نہ یہ مجھے بتا کر آتے ہیں۔ یہ کبھی بھی کسی بھی جگہ، میری راہ تک رہے ہوتے ہیں۔ شائد ان کو میں نارمل پسند نہیں، شائد یہ میرے حال اور خشک آنکھوں سے خوش نہیں۔

Advertisements

ایک خیال “وہ لاکھوں میں ایک لمحہ” پہ

  1. پنگ بیک: آدھی رات کا لاہور – بلاگ اے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s