جب جنید جمشید نے مجھے پیغام بھیجا

"بھائی السلام علیکم”

"کیا میں آپ سے بات کرسکتا ہوں”

کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کے بچپن کا ہیرو، جس کی آواز پر پورا ملک جھومتا ہو، جس کے اخلاق کی گواہی بڑے سے بڑا شخص دیتا ہو، ہر گنگنانے والا جس کے گانے گاتا ہو، ہر عاشق رسول جس کی نعتیں پڑھتا ہو۔۔۔ جس سے آپ کی کبھی ملاقات تک نہ ہوئی ہو، بات تک نہ ہوئی ہو۔ وہ اچانک کسی دن آپ کو پیغام بھیجے کہ آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ کیا حال ہوا ہوگا میرا جب جنید جمشید نے مجھے ٹوئٹر پر ذاتی پیغام بھیجا؟

"بھائی آپ میرا نمبر لیں اور مجھے کال کریں، ٹوئٹر اکاؤنٹ سے متعلق کچھ سوالات ہیں”، ان کا یہ پیغام پڑھ کر میرا چہرہ کھل اٹھا۔

میں آج تک نہیں جانتا کہ ان کو کس شخص نے میرے بارے میں بتایا اور کیا بتایا، اور کیوں بتایا، مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آیا۔

اس دن کے بعد مجھے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر رشک آنے لگا تھا، اور اس بات کا اعلان میں نے ٹوئٹر پر بھی کیا۔ پھر میری جنید بھائی سے تقریباْ روزانہ بات ہونے لگی جو کچھ ہفتے جاری رہی۔ وہ ان دنوں ٹورنٹو گئے ہوئے تھے اور ٹوئٹر پر ان کے نام کے بے تحاشا جعلی اکاؤنٹس بنے ہوئے تھے جن کی وجہ سے وہ کچھ پریشان تھے اور اسی سلسلے میں انہیں کچھ مدد درکار تھی۔ میرے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی تھی کہ میں اپنے بچپن کے ہیرو کے کسی کام آسکوں۔ پھر فون کال، واٹس ایپ، اور ٹوئٹر پیغامات پر ان سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہا، وہ مجھ سے کبھی ملے تک نہ تھے لیکن انہوں نے اپنے اکاؤنٹ کا پاسورڈ تک مجھ جیسے انجان بندے کو دیے رکھا۔

مٹھاس اس شخص کے لہجے یا آواز میں ہی نہیں روح میں تھی، ہر بات کے جواب میں ‘اللہ آپ کو خوش رکھے میرے بھائی” اور "ویری گریٹ فل” کہنا ان کی عادت کا حصہ تھا۔ مجھے ‘احسن بھائی’ کہہ کر پکارتے، اور اپنے دل کی ویسے ہی سناتے جیسے کوئی واقعی اپنے بھائی سے باتوں مگن ہے۔ انٹرنیٹ پر ان کے خلاف چلائی جانے والی کیمپین کے بارے میں بھی بتاتے کہ کس طرح یہ کیمپین ایسے وقت میں شروع کی گئی جب وہ کینیڈا کی لمبی فلائٹ پر تھے، تاکہ میڈیا یا سوشل میڈیا پر کوئی جواب نہ دے پائیں۔ ایسی تمام چیزیں اور مسئلے میرے ساتھ شیئر کرتے کہ میں یہی آرزو لیے سوچتا رہتا کہ کاش میں کسی طرح یہ تمام مسائل حل کرنے میں ان کی کچھ مدد کر پاؤں۔ میں بھی اس شخص کے دل کو تھوڑی تسلی دے پاؤں جس نے پوری قوم کو ‘دل دل پاکستان’ دیا۔

پھر دوبارہ سے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہوا اور انہوں نے کچھ عرصہ کے لیے ٹوئٹر سے کنارہ کشی اختیار کی، ہماری بات چیت کے سلسلہ کو بھی بریک لگ گئی۔ سال گزر جانے کے بعد میری ان سے ٹوئٹر پر آخری بار بات جولائی میں ہوئی جب میں نے ان کو ایک مسئلہ حل ہونے پر مبارکباد دی تھی۔

بقول جعفر حسین، وہ شخص ایک پوری نسل کی داستاں تھا۔

میں اس شخص سے مل نہ پایا جو واقعی سٹیج کی رعنائیوں سے اتر کر عوام کے ہجوم میں گھس گیا تھا، جس نے اپنی روح میں کسی چیز کی ‘کمی’ کو زمانے پر نہیں تھوپا تھا، جو اپنی زندگی کی ایسی مثال چھوڑ گیا جو صدیوں میں دیکھنے کو ملتی ہے، جو جہاں بھی گیا لوگوں کو دیوانہ بنا گیا۔

وہ چلا گیا اور میرے دل میں بسی ملاقات کی اس حسرت کو آب حیات پلا گیا۔

یہ بلاگ آڈیو میں سنیے:

Advertisements

ایک خیال “جب جنید جمشید نے مجھے پیغام بھیجا” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s