خاموشی

جب خود اپنی خاموشی پر حیرت ہو جب خود اپنی خاموشی ٹوٹنے کا انتظار ہو انتظار ہو کہ کب ساکت سمندر کی لہریں چٹان سے ٹکرا کر میلوں تک شور برپا کریں کب دل کے زندان میں بسے شکووں کو آزادی نصیب ہو کب اَن کہے الفاظ کے جنگل کو لگی آگ پر بارش برسے …

جاری رکھئیے پڑھنا خاموشی