خاموشی

جب خود اپنی خاموشی پر حیرت ہو

جب خود اپنی خاموشی ٹوٹنے کا انتظار ہو

انتظار ہو کہ کب ساکت سمندر کی لہریں چٹان سے ٹکرا کر میلوں تک شور برپا کریں

کب دل کے زندان میں بسے شکووں کو آزادی نصیب ہو

کب اَن کہے الفاظ کے جنگل کو لگی آگ پر بارش برسے

کب کانپتے ہونٹوں سے تیرا نام نکلے

کب منہ کے رستے جسم میں اترتی ٹھنڈ دل تک پہنچے

کب دماغ کو لگام دینے والی ہر شےختم ہو

کب سوچوں کے چوکیدار کو نیند آئے

کب بے ترتیب دھڑکنوں کی ہچکیاں بند ہوں

کب سردی سے جمی انگلیاں کچھ لکھنا سیکھیں

کب نگاہوں کے آگے سے یہ دھُند ہٹے

کب سامنے دِکھتے اس پہاڑ کا رستہ ملے

کب یادوں کے اس کمرے کا شیشہ ٹوٹے

کب بے زباں اس شخص کا رونا پھوٹے

Advertisements

ایک خیال “خاموشی” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s