صراحہ نے میری زندگی بدل دی

"مجھے آپ بہت پسند ہیں، کاش میں آپ کے ساتھ دن رات بات کروں، آپ کو دیکھتا رہوں، آپ کی باتیں سنتا رہوں”

"تمہیں پتہ ہے تم بہت منافق انسان ہو، اصل میں کچھ ہو اور انٹرنیٹ پر کچھ۔ نہ تمہیں بات کرنے کا سلیقہ ہے اور نہ تم میں کوئی خاص بات ہے، کسی دن وقت نکال کر مر کیوں نہیں جاتے؟”

یہ دو بالکل الگ طرح کے پیغامات ہیں، پہلا پیغام آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لائےگا، دل کی دھڑکن پر بھی شائد کوئی اثر چھوڑے اور دماغ کو اٹھا کر آسمان پر اڑتے پی آئی اے جہاز سے بھی دو چار سو فٹ اوپر لے جائے گا کیونکہ تعریفیں کسے نہیں پسند؟  اور ایسی تعریف جوہو بھی گمنام، اندر ایک کھلبلی سی مچا دیتی ہے۔ لیکن کیا یہ کھلبلی عارضی ہوتی ہے یا پھر مزید ایسے احساسات کو جنم دیتی ہےجو پھر چین نہیں لینے دیتے؟

دوسرا پیغام پڑھتے ہی آپ کی رگوں میں تیرتا خون جوش تو ضرور مارے گا، دماغ کی نسیں اک بار تن ضرور جائیں گی، منہ سے شائد کوئی گالی بھی برآمد ہو اور غصے سے لال پیلا ہونا بھی کوئی اچنبھے کی بات نہ ہوگی۔ یہ پیغام بھی کسی نام سے نہ جڑا ہوگا، لیکن آپ کو کاٹ کھائے گا، اگر آپ صرف تعریفیں سننے کے موڈ میں تھے اور اپنا دن اچھا کرنا چاہتے تھے تو یہ پیغام ضرور دن برباد کر چھوڑے گا۔

آج کل کی مشہور ترین موبائل ایپ صراحہ بھی آپ کو اس طرح کے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے کی سہولت دیتی ہے، یہی کچھ پہلے آسک ایف ایم نامی ویب سائٹ پر بھی ہوتا تھا لیکن صراحہ نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صراحہ وصول ہونے والے پیغام کو تصویری شکل میں دکھاتی ہے۔ صراحہ یا صراحت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب اظہار کرنا ہے اور اس ایپ کے بنانے والوں نے یہ "تعمیری پیغام چھوڑیں” کی ایک لائن شامل کرکے خود کو ایک طرح سے اس کے منفی استعمال سے بری الذمہ کر لیا ہے۔

ابھی کچھ دن پہلے میری ٹوئٹر ٹائم لائن پر ایک خاتون صراحہ کے استعمال سے انتہائی خوفزدہ نظر آئیں، ان کو کوئی شخص بہت عجیب و غریب پیغامات بھیج رہا تھا جو شائد ان کی ذاتی زندگی سے متعلق تھے، خاتون انتہائی عاجز ہوکر یہ درخواست کررہی تھیں کہ پلیز مجھے یہ پیغام مت بھیجیں میں برداشت نہیں کر پارہی۔ اس طرح کے بے شمار کیسز ہمارے ارد گرد ہونگے لیکن ہمیں تو وہی کرنا ہے جو دنیا کررہی ہے، ہمیں تو اپنے دماغ کی تسکین کے لیے اب کچھ تو کرنا ہے۔ پہلے خود کو دنیا کے سامنے ایکسپوز کرنا ہے، اپنی اچھائیاں اور خامیاں بتانی ہیں اور جب دنیا اس پر تبصرہ کرے تو دنیا کو برا بھلا کہنا ہے۔ پہلے دنیا کو کہنا ہے کہ آؤ مجھے جو مرضی کہہ لو، اور جب دنیا "جو مرضی” کہہ دیتی ہے تو غصے سے لال پیلے ہوکر معاشرے کی گندگی پر غصہ نکالنا ہے۔

بات صاف ہے، آپ کیچڑ میں چلیں گے تو صاف نہیں رہ پائیں گے اور اگر کیچڑ سے الرجی ہے لیکن پھر بھی اس رستے پر جانا ہے تو  پھسلنے کا الزام کسی اور کو مت دیجیے گا۔

Advertisements

2 خیالات “صراحہ نے میری زندگی بدل دی” پہ

  1. Khadija

    بہترین تجزیہ. اس ایپ نے ایک اور پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگوں کے لیے کسی کی شخصیت کے منفی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کا ایسا طریقہ نہیں بچا، یا شاید ہم میں سے برداشت کا مادہ ختم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے پردے کے پیچھے سے بات کرنا قدرے آسان لگتا ہے، اور دل کا غبار بھی نکل آتا ہے. آپ بغیر برے بنے اپنا زہر منتقل کر سکتے ہیں.

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s