مجھے ان وادیوں کے سفر سے کیا ملتا ہے؟

"جا تو رہے ہو، لیکن یہ ضرور دیکھ لینا کہ کیا لینے جارہے ہو”

پوری گفتگو میں یہ ایک واحد جملہ تھا جو مجھے بالکل سمجھ نہ آیا، بھئی ہم پہاڑوں میں جارہے ہیں، خدا کی قدرت دیکھنے، اس کے بنائی ندیوں کا پانی چکھنے، اس کے پہاڑوں کے بیچ آباد ان وادیوں کے لوگوں کے درمیان رکنے جو اپنی مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں، وہ سکون ڈھونڈنے جارہے ہیں جو ان گھٹن زدہ شہروں میں دستیاب نہیں، اور کیا لینے جائیں گے وہاں؟ اور کیا ملتا ہے؟

میرے لیے شمالی علاقوں کے سفر کے ہمیشہ سے تین مقاصد رہے، قدرتی مناظر کے تصاویر بنانا، اجنبیوں کی زندگی کو قریب سے دیکھنا اور اپنی زندگی کے مسائل سے دور بھاگنا، دوسرے لفظوں میں ‘بریک’ لینا۔

اور ان تمام مقاصد میں کامیابی بھی ملی، ننگی آنکھ سے کم اور کیمرے کے پیچھے سے مناظر زیادہ دیکھے، لوگوں سے ملاقاتوں، ان کے رہن سہن، باتوں، اندازوں نے بہت سے گمان توڑے، بہت سی نئی معلومات دی، بہت مثبت خیالات نے جنم لیا۔ اور بریک تو واقعی ایسی ملتی ہے کہ یاد ہی نہیں ہوتا کہ زندگی جو مسائل کا گڑھ ہے اس کا کیا کرنا ہے، کام جو ہونے والا پڑا ہے اس کو کب پورا کرنا ہے، دل جو روٹھے بیٹھے ہیں ان سے کیا بات کرنی ہے، کچھ یاد نہیں ہوتا۔

ان سفروں نے بلاشبہ اندر بہت سی چیزیں توڑی ہونگی، اور بلاشبہ بہت سے نئے بت بھی کھڑے کردیےہونگے

اب میں اکثر سوچتا ہوں وہ کیا چیز ہے جو مجھے مجبور کرتی تھی ان علاقوں کی طرف بھاگنے پر، وہ کیا احساس ہے جو یہاں  بیٹھے نہیں ملتا؟ میں کیا لینے جاتا ہوں وہاں؟ کیا بدل جاتا ہے میری زندگی میں وہاں؟ اور کیا نہیں ہے یہاں؟

جب بھی میں کسی خوبصورت پہاڑی علاقے میں جاتا ہوں، جہاں میرا رابطہ ان علاقوں سے ٹوٹ جاتا ہے جہاں سے میں آیا ہوں تو وہ خوبصورتی دیکھ کر میں اپنی زندگی کی بدصورتی بھول جاتا ہوں، وہی بدصورتی جس میں، میں نے خوب حصہ ڈالا، وہی مسئلے جن میں خود ہی پھنسا، وہی لامحدود خواہشیں، وہی ٹوٹی پھوٹی امیدیں، وہی گردوغبار جو اندر بسا پڑا ہے، وہ سب بھول جاتا ہے، خدا کی بنائی خالص چیزیں دیکھ کر یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ ہم بھی کبھی اتنے ہی خالص تھے، وہ رشتے، وہ یاریاں، وہ تعلق، وہ دل، سب تو خالص تھا۔

پھر ان پر جھوٹی امیدوں کی بے رنگی چادر چڑھائی، ملکیت کا دعوی کیا، غصے اور نفرت کے بیج بوئے، اور تھک ہار کر بھولنے کی کوشش کی اور پھر جب وہ خالص نہ رہا تو یہ خالص دیکھنے یہاں بھاگے آئے، اور واہ واہ کر اٹھے

ہفتہ، دو ہفتہ، مہینہ اسی جادو میں گزر جاتا ہے، کیونکہ پتہ ہوتا ہے کہ سب عارضی ہے، اک دن لوٹ جانا ہے، اس لیے کبھی ان جگہوں، لوگوں، اور مناظر کامالک نہیں بنا جاتا جیسے اپنی زندگی میں بنائے بیٹھے ہوتے ہیں، ان سب سے وہ امیدیں ہی نہیں لگا پاتا

واپس لوٹ آنے کے بعد کچھ ہفتے اسی خمار میں گزر جاتے ہیں، جیسے صبح صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد کچھ دیر تو انسان گم سم ہی رہتا ہے۔ پھر زندگی اسی ڈگر پر چلنا شروع ہوتی ہے جہاں سے چھوڑ کر گئے تھے۔

یہ کیسی حیرانی ہے، یہ کیا ہے۔۔ یہاں تو کچھ نہیں بدلا، میں پھر کیوں اس جہنم میں لوٹ آیا ، پھر کیوں اسی ایندھن کا حصہ بننے چلا آیا، اور اک بار پھر سے بھاگ جانے کے خواہش سر اٹھاتی ہے،

اور میں یہ بات بھول جاتا ہوں کہ میں جتنے بھی سفر کرلوں، جتنی بھی وادیاں گھوم لوں اور جتنے بھی پہاڑ سر کرلوں، مجھے واپس یہں لوٹ کر آنا ہے، تو میں اس پہاڑ جتنی انا، گہری کالی کھائیوں جیسی نفرت، ہوس کو پار کیوں نہیں کرتا؟ جو کبھی خالص تھا اسے پانے کی کوشش کیوں نہیں کرتا؟ یا پھر ایسے ہی بھاگتا رہوں؟

Advertisements

3 خیالات “مجھے ان وادیوں کے سفر سے کیا ملتا ہے؟” پہ

  1. پنگ بیک: » » مجھے ان وادیوں کے سفر سے کیا ملتا ہے؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s