ٹوٹے ہوئے دل جائیں کہاں

ہوئے فاصلے، چھوٹے سلسلے
ٹوٹے ہوئے دل جائیں کہاں

پیانو سے نکلتا مسحور کن ساز ختم ہونے کے بعد جیسے ہی یہ الفاظ جعفرزیدی کے لبوں سے نکلتے ہیں ایک ایسی کہانی شروع ہوتی ہے جس سے ہر وہ انسان تعلق جوڑ سکتا ہے جو دل میں ذرا سا بھی درد رکھتا ہو، جو شائد یہ بھی نہ جانتا ہو کہ اس کے  اندر کون کونسے جذبات کس کس کونے میں رضائی اوڑھے سونے میں مگن ہیں، جو شاید اپنی ہر کہانی سے بھی واقف نہ ہو۔ اور پھر اچانک سے اس گانے اور موسیقی کی کہانی، اس کی کہانی بن جاتی ہے۔

ہماری کہانیوں سے بھرپور زندگی جس میں ہم سینکڑوں رشتے جوڑتے ہیں، ہزاروں وعدے کرتے ہیں، اور پھر لاکھوں امیدیں لگا کر ان رشتوں کو آگے بڑھانے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں، پھر نئے موڑ آتے ہیں، اور وہ زندگی کے راستوں کو فاصلوں میں بدل ڈالتے ہیں۔

تیرے واسطے، سبھی راستے
چھوڑ کے میں، آئی یہاں

زندگی کی انہی کہانیوں کو ہم باقی دنیا میں، دوسروں کی زندگی میں تلاش کرتے ہیں تاکہ کوئی یا کچھ تو ایسا نظر آئے جس پر بھی وہی بیتی ہو جو ہم نے گزاری، شاید کسی اور نے  بھی اسی درد کا احساس ہو جو ہمیں ہے، شاید کوئی تو ایسا ہو جو ہماری اس بیتی کو ایسے بیان کرے کہ پھر کوئی کسک باقی نہ رہ پائے۔

بہت سے لوگ اپنی یہ کہانیاں کتابوں میں ڈھونڈتے ہیں، دوسروں کا لکھا پڑھ کر سکون لیتے ہیں، تعلق جوڑتے ہیں، اور زندگی گزارنے کے فیصلے تک کر جاتے ہیں۔ بہت سوں کو اپنی کہانیاں دوسروں کی پینٹنگز یا تصویروں میں نظر آتی ہیں اور بہت سے اپنا درد ٹی وی پر آتی فلموں میں تلاش کر بیٹھتے ہیں۔

 ایسا ہی ایک ذریعہ موسیقی ہے جو ہر خاص و عام  کے دلوں سے جڑا ہے، جس کی اپنی ہی زبان ہے، اپنے ہی طور طریقے، جو اپنے ہی انداز میں غیر محسوس طریقے سے بہت کچھ کہہ جاتی ہے، دے جاتی ہے۔

موسیقی کی بات کی جائے تو پاکستان میں کوک سٹوڈیو کے  شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہم نے اس کے کئی روپ دیکھے، درجنوں فنکاروں نے سینکڑوں گانے بنائے جن میں ہر سال اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، نت نئے تجربات کی وجہ سے کوک سٹوڈیو کی جانب سے بنائی جانے والی موسیقی کی کوالٹی کس جانب جارہی ہے اس سے قطع نظر پرانے سیزنز میں کچھ گانے ایسے ہیں جن میں واقعی لوگ اپنا درد تلاش کرتے ہیں، امید لیتے ہیں، سکون ڈھونڈتے ہیں، جن میں سے ایک گانا ‘فاصلے’ ہے جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں۔ یو ٹیوب پر اس گانے کے نیچے کچھ کمنٹس ایسے ہیں جن کو پڑھنے کے بعد میں یہ سب لکھنے پر مجبور ہوا، بلکہ یہی نہیں اگر کاوش بینڈ کے بقیہ دو گانے جو کوک سٹوڈیو میں پیش کیے گئے ان کے نیچے دنیا بھر سے لکھے گئے کمنٹس پڑھیں جائیں تو کہانی پھر بھی مختلف نہ ہوگی۔

کاوش اور قرات العین بلوچ کا گانا ‘ٖفاصلے‘ جسے لکھا اور بنایا بھی جعفر زیدی نے ہے اس کے نیچے مجھے یہ کمنٹ پڑھنے کو ملا، جس میں سلیم سعید عبداللہ نے لکھا کہ کس  طرح اس گانے نے ان کی زندگی بدلی۔

"میں نے اپنی زندگی کے مشکل ترین 9 ماہ گزارے، میری زندگی کے سب سے دردناک مہینے۔ میں بالکل گمشدہ اور بےیارومدرگار تھا۔  خدا مجھ سے ہر چیز چھین چکا تھا، اور میں انسانی کمزوری کی انتہا پر تھا جہاں کوئی انسان یا جگہ ایسی نہ تھی جہاں میں جاسکتا۔ زندہ رہنے کی جدوجہد کے اس مقام پر، یہ گانا ریلیز ہوا۔ اسے سن کر اور اس کے الفاظ پڑھ کر مجھے بے تحاشا ہمت ملی۔  اس ہمت نے مجھے مضبوط بنایا اور دوبارہ جینے کی امنگ دی۔ میری اس جدوجہد کا حصہ بننے کے لیے کیو بی اور کاوش آپ دونوں کا شکریہ۔ ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے، لیکن دلوں کی اس دنیا میں ہم اس گانے کی بدولت ملے اور آپ نے مجھے جینا سکھا دیا

faasle comment

کیتھ ورما لکھتے ہیں، کاوش ایک مکمل ٹوٹا ہوا دل لگتا ہے، اور درد ہر جگہ اور اس کی گائی ہوئی ہر لائن میں نظر آتا ہے۔ یہ آپ کو آپ کے اس بچھڑے ہوئے پیار کی ایک میٹھی سی یاد دے جاتا ہے جو کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔

faasle 2

محمد محسن نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا دل کرتا ہے کہ میں ایک محبوبہ بناؤں، اس کی محبت میں گرفتار ہوجاؤں، پھر رشتہ توڑوں اور پھر اس گانے کا درد محسوس کروں۔ یہ گانا جذبات کی ایک رولر کوسٹر ہے

faasle ..PNG

بالکل اسی طرح کاوش کا کوک سٹوڈیو کے لیے پہلا گانا ‘نندیا رے’ جو روحیل حیات کے زمانے میں پیش کیا گیا تھا، اس کے نیچے کمنٹس پڑھیں تو دل مسکرا اٹھتا ہے، کہ یہ موسیقی اب کہاں ہے جو لوگوں کو راتوں کو سکون سے سلا دیتی ہے، جو بچھڑے ہوؤں کی یاد کو ایک میٹھی یاد بنا دیتی ہے، یہ موسیقی جو بنائی ہی اس لیے گئی کہ روح تک اتر جائے نہ کہ دماغ کو چڑھ جائے۔

nindya re comments.PNG

  کاوش کا کوک سٹوڈیو کے لیے تیسرا گانا ‘نیوں لا لیا’ ہے، جو آٹھویں سیزن میں پیش کیا گیا، یہ گانا شاہ حسین کی شاعری پر مشتمل ہے اور اس کو سننے والا اس گانے کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، مندرجہ ذیل کمنٹس اس بات کو بہتر انداز میں بیان کریں گے۔

ثوبیہ مخدوم لکھتی ہیں کہ میں یہ گانا سنتے ہوئے رو پڑی، پوری ٹیم کو مبارکباد۔ میں شاعر کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی، میں اس مقام پر نہیں کہ کچھ کہہ سکوں۔

nue la leya 2.PNG

نیمو نے لکھا کہ دکھ درد، نفرت اور بدلے کی آگ سے بھری اس دنیا میں، جو ہمیں انسان کی بنیادی نیچر کے بارے میں سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے، یہاں مجھے امید ہے کہ اس طرح کی موسیقی پوری انسانی نسل کو اکھٹا کردے گی۔

nue la leya 1.PNG

میں آج یہ گانے سنتا خود سے سوال کررہا ہوں کہ کوک سٹوڈیو کے حالیہ سیزن کا حال دیکھنے کے بعد کیا مجھے ایسی موسیقی دوبارہ سننے کو ملے گی؟

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s