فیصل آباد کی سڑک

میری یہ دعا ہے کہ تیرا جیون یونہی

چلتا رہے ساری خواہشیں ہوں پوری

کاوش کا “فاصلے” میرے کانوں میں گونج رہا تھا اور ساتھ ہی بس نے موٹروے ایم-2 سے فیصل آباد کی جانب ایم-3 کا موڑ کاٹا۔

میں بس کی سیٹ نمبر 41 پر بیٹھا تھا جو کہ سب سے آخری لائن کی پہلی نشست تھی، جبکہ ٹکٹ مجھے سیٹ 43 کا ملا تھا، بس میں جلدی سوار ہونے کی بدولت میں اپنی من پسند جگہ یعنی کھڑکی کے ساتھ جابیٹھا کیونکہ آخری سیٹوں پر نمبر نہیں لکھے تھے جو بعد میں پتہ چلے۔

لاہور سے فیصل آباد یا اسلام آباد جانے کیلئے بس کا سفر میں عموماً فیصل موورز یا بلال ٹریولز پر کرتا ہوں، ڈیوو کی سروس اب مجھے پسند نہیں رہی، بعد میں آنے والی مقامی ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے ڈیوو سے سیکھ کر اب اسے ہی پیچھے چھوڑ دیا ہے، اچھی بسیں، اور وہی سہولیات سستی کرکے دے رہے ہیں بلکہ بعض ایسی سہولتیں جو کہ ڈیوو میں بھی دستیاب نہیں، جیسے کہ انٹرٹیمنٹ سسٹم۔ صرف وہ بس اڈے یعنی کہ ٹرمینلز ڈیوو جیسے نہیں بنا سکے۔

اگر آپ لاہور سے اسلام آباد کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو فیصل موورز کی بزنس کلاس بس استعمال کرکے دیکھیں، اس کی اکیلے بندے والی سیٹ میری فیورٹ بن چکی ہے، جس پر آپ دوسروں کی کُہنیوں سے بھی بچ جاتے ہیں اور نہ ہی کوئی اجنبی سوتے میں آپ کے کندھے پر اپنا سر ٹکا کر سہانے سپنے دیکھتا ہے۔

میرے ساتھ والی نشست پر میرے جیسا ہی اک خوبصورت نوجوان بیٹھا تھا، میری آنکھ لگنے پر اُس خدا کے بندے نے ہوسٹس کی طرف دی جانے والی ہوا بھری چپس اور کیک بھی میرے لیے وصول کیا اور پانی کا کپ بھی۔ کونے پر بیٹھا ایک کم عمر نوجوان نے جو ٹکٹ لیتے وقت بھی میرے ساتھ ہی کھڑا تھا، بار بار پوچھ رہا تھا کہ کتنا وقت لگے گا تاکہ وہ اپنے دوست کو بولے کہ اسے لینے اڈے پر آجائے۔

میں واقعی یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں، یہ میل ملاپ، یہ عارضی گفتگو، یہ اک دوسرے کی مدد، ان سب کی کمی محسوس کررہا تھا۔ فیصل آباد کا سفر ہمیشہ سے ہی خوشی کا باعث رہا ہے۔

اونچائیوں کی، گہرائیوں میں

تم ہی ہو نا، تیرے نینا، ہائے نینا

کیلاش کھیر کی آواز میرے کانوں میں رس گھول رہی تھی، اور بس کے شیشے سے باہر آسماں پر سورج کہیں نہیں تھا۔ منظر بدلتا جارہا تھا۔ دو دوست موٹر سائیکل پر بیٹھے کچے رستے پر اپنے گاؤں کی طرف رواں دواں تھے۔ پرندوں کا جھرمٹ کھلی فضا میں اک قطار بنائے خوش دکھائی دے رہا تھا۔ اک ڈیرے پر کھڑے ٹریکٹر کے ساتھ اک گھنے درخت کے سائے میں پڑی چارپائی پر بیٹھے اک بزرگ حقہ پی رہے تھے۔ پھر اچانک سے اک نہر گزرتی ہے، جس کے ساتھ بنے رستے پر کوئی سائیکل پر جارہا ہے، اور رستہ آگے دھندلاتا جارہا ہے۔

اک سڑک آپ کو بہت کچھ دکھا جاتی ہے، پکی اینٹوں سے لے کر کچی جھونپڑیوں تک، بڑی سی لینڈ کروزر سے لے کر سائیکل کی نالی پر بیٹھی چھوٹی سی بچی تک۔ گھروں کے ٹوٹے دروازوں پر بیٹھے روتے بلکتے بچوں لے کر مہنگے ریستورانوں کے روشن شیشوں تک۔

موٹروے نے اب فیصل آباد کو کئی دروازے دے دیے ہیں، کسی زمانے میں تو ہم بذریعہ چنیوٹ 2-3 بسیں بدل کر یہاں پہنچتے تھے، سرگودھا روڈ ہی راستہ ہوتا تھا۔ اب موٹروے کی وجہ سے کبھی ڈپٹی والا اتر رہے ہیں تو کبھی ساہیانوالہ، اور کبھی سرگودھا روڈ اتر کر روایتی انداز سے الائیڈ موڑ سے ہوتے ہوئے شہر کی جانب جا نکلتے ہیں۔

فیصل آباد بڑی محبتوں اور خوشیوں کا شہر ہے، اللہ اسے ہمیشہ ایسا ہی رکھے۔

ایک خیال “فیصل آباد کی سڑک” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s