ٹوٹے ہوئے دل جائیں کہاں

پیانو سے نکلتا مسحور کن ساز ختم ہونے کے بعد جیسے ہی یہ الفاظ جعفرزیدی کے لبوں سے نکلتے ہیں ایک ایسی کہانی شروع ہوتی ہے جس سے ہر وہ انسان تعلق جوڑ سکتا ہے جو دل میں ذرا سا بھی درد رکھتا ہو